پاکستانی ایکسپورٹرز نے امریکا کے بعد یورپی مارکیٹ کا بھی رخ کرلیا ہے جس میں ہوم ٹیکسٹائل کی سب سے بڑی عالمی نمائش ہیم ٹیکسٹل کے ذریعے پاکستانی قالین یورپی  خریداروں تک پہنچ گئے۔

ہاتھ سے بنے روایتی قالینوں نے یورپی خریداروں کی توجہ حاصل کرلی، نمائش میں شرکت کرنے والے پاکستانی ایکسپورٹرز کو توقع سے بہتر رسپانس ملا ہے۔ امریکا کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر اضافی ٹیریف نے پاکستان کی دم توڑتی قالین سازی کی بحالی کی امید پیدا کردی ہے۔

جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں جاری گھریلو مصنوعات کی عالمی نمائش ہیم ٹیکسٹل میں اس سال پاکستانی قالینوں کا قومی پویلین قائم کیا گیا ہے جس میں دس کمپنیاں شریک ہیں۔ ان کمپنیوں میں زیادہ تر چھوٹے ایکسپورٹرز شامل ہیں جن کی اکثریت پہلی  مرتبہ یورپی مارکیٹ میں براہ راست پاکستانی قالین کی مارکیٹنگ کررہے ہیں۔

پاکستان کارپٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئرمین اور نمائش میں اسٹال لگانے والے میاں عتیق الرحمن دہائیوں بعد پاکستانی کارپٹ کی انٹرنیشنل نمائش میں اچھے انداز میں شرکت کے آغاز پر اور انہیں ملنے والے رسپانس پر خوش ہیں۔ 

میاں عتیق الرحمن نے ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سال 2000تک پاکستان کی ایکسپورٹ 350ملین ڈالر تک پہنچ گئی تھی جو اب کم ہوکر 70ملین ڈالر تک محدود ہوچکی ہے۔ پاکستانی قالین کے روایتی خریداروں میں امریکا، آسٹریلیا، ساؤتھ افریقہ رہے ہیں۔ امریکا سب سے بڑی مارکیٹ ہے تاہم دونوں ملکوں کے تجارتی تعلقات میں بہتری کے باوجود اس کا اثر پاکستانی کارپٹ کی ایکسپورٹ پر نہیں پڑا

میاں عتیق نے بتایا کہ نامساعد حالا ت کے باوجود انڈسٹری گزشتہ پچیس سال سے بغیر کسی سبسڈی یا حکومتی معاونت کے اپنے بل بوتے پر چلتی رہی اور پاکستان کا ایک ثقافتی ورثہ قالین سازی کا آرٹ آہستہ آہستہ ختم ہوتا رہا۔ قالین ایک ایسی پراڈکٹ ہے جس کے ذریعے پاکستان کا نام جڑا ہے اور یہ پاکستان کی پہچان ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں روایتی طور پر سوتری ڈیزائن کے قالین بنتے تھے جو بہت مہنگے تھے اور وقت کے ساتھ متروک ہوگئے اب کارپٹ ویجیٹیبل ڈائز پر منتقل ہوگئے ہیں اور ہاتھ کے بجائے لومز پر قالین بنائے جارہے ہیں تاہم پاکستان میں اب بھی روایتی طریقے سے ہاتھ کے ذریعے قالین بنائے جارہے ہیں۔

بھارتی قالین پر امریکی ٹیریف سے پاکستان کے لیے امکانات کا ذکر کرتے ہوئے میاں عتیق نے کہا کہ امریکا کے ٹیریف کے جواب میں بھارت نے اپنے ایکسپورٹرز کو سبسڈی اور ری بیٹ میں اضافہ کردیا جس سے بھارتی قالین پر امریکی ٹیریف کا اثر کافی حد تک زائل ہوچکا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بھارت میں قالین لومز پر منتقل ہوگئے جس سے ہاتھ سے بنے پاکستان کے لیے قالین کی بین الاقوامی مارکیٹ میں اب بھی بہت اچھی گنجائش موجود ہے تاہم اس پوٹینشل کو بروئے کار لانے کے لیے حکومتی سرپرستی ناگزیر ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستانی قالین میاں عتیق

پڑھیں:

پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
 تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔
 

مزید :

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ