ہوم ٹیکسٹائل کی سب سے بڑی عالمی نمائش، پاکستانی قالین یورپی خریداروں تک پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
پاکستانی ایکسپورٹرز نے امریکا کے بعد یورپی مارکیٹ کا بھی رخ کرلیا ہے جس میں ہوم ٹیکسٹائل کی سب سے بڑی عالمی نمائش ہیم ٹیکسٹل کے ذریعے پاکستانی قالین یورپی خریداروں تک پہنچ گئے۔
ہاتھ سے بنے روایتی قالینوں نے یورپی خریداروں کی توجہ حاصل کرلی، نمائش میں شرکت کرنے والے پاکستانی ایکسپورٹرز کو توقع سے بہتر رسپانس ملا ہے۔ امریکا کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر اضافی ٹیریف نے پاکستان کی دم توڑتی قالین سازی کی بحالی کی امید پیدا کردی ہے۔
جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں جاری گھریلو مصنوعات کی عالمی نمائش ہیم ٹیکسٹل میں اس سال پاکستانی قالینوں کا قومی پویلین قائم کیا گیا ہے جس میں دس کمپنیاں شریک ہیں۔ ان کمپنیوں میں زیادہ تر چھوٹے ایکسپورٹرز شامل ہیں جن کی اکثریت پہلی مرتبہ یورپی مارکیٹ میں براہ راست پاکستانی قالین کی مارکیٹنگ کررہے ہیں۔
پاکستان کارپٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئرمین اور نمائش میں اسٹال لگانے والے میاں عتیق الرحمن دہائیوں بعد پاکستانی کارپٹ کی انٹرنیشنل نمائش میں اچھے انداز میں شرکت کے آغاز پر اور انہیں ملنے والے رسپانس پر خوش ہیں۔
میاں عتیق الرحمن نے ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سال 2000تک پاکستان کی ایکسپورٹ 350ملین ڈالر تک پہنچ گئی تھی جو اب کم ہوکر 70ملین ڈالر تک محدود ہوچکی ہے۔ پاکستانی قالین کے روایتی خریداروں میں امریکا، آسٹریلیا، ساؤتھ افریقہ رہے ہیں۔ امریکا سب سے بڑی مارکیٹ ہے تاہم دونوں ملکوں کے تجارتی تعلقات میں بہتری کے باوجود اس کا اثر پاکستانی کارپٹ کی ایکسپورٹ پر نہیں پڑا
میاں عتیق نے بتایا کہ نامساعد حالا ت کے باوجود انڈسٹری گزشتہ پچیس سال سے بغیر کسی سبسڈی یا حکومتی معاونت کے اپنے بل بوتے پر چلتی رہی اور پاکستان کا ایک ثقافتی ورثہ قالین سازی کا آرٹ آہستہ آہستہ ختم ہوتا رہا۔ قالین ایک ایسی پراڈکٹ ہے جس کے ذریعے پاکستان کا نام جڑا ہے اور یہ پاکستان کی پہچان ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں روایتی طور پر سوتری ڈیزائن کے قالین بنتے تھے جو بہت مہنگے تھے اور وقت کے ساتھ متروک ہوگئے اب کارپٹ ویجیٹیبل ڈائز پر منتقل ہوگئے ہیں اور ہاتھ کے بجائے لومز پر قالین بنائے جارہے ہیں تاہم پاکستان میں اب بھی روایتی طریقے سے ہاتھ کے ذریعے قالین بنائے جارہے ہیں۔
بھارتی قالین پر امریکی ٹیریف سے پاکستان کے لیے امکانات کا ذکر کرتے ہوئے میاں عتیق نے کہا کہ امریکا کے ٹیریف کے جواب میں بھارت نے اپنے ایکسپورٹرز کو سبسڈی اور ری بیٹ میں اضافہ کردیا جس سے بھارتی قالین پر امریکی ٹیریف کا اثر کافی حد تک زائل ہوچکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بھارت میں قالین لومز پر منتقل ہوگئے جس سے ہاتھ سے بنے پاکستان کے لیے قالین کی بین الاقوامی مارکیٹ میں اب بھی بہت اچھی گنجائش موجود ہے تاہم اس پوٹینشل کو بروئے کار لانے کے لیے حکومتی سرپرستی ناگزیر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستانی قالین میاں عتیق
پڑھیں:
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے، چین نے مکئی کی درآمد کے لئے پاکستانی تاجروں کی رجسٹریشن بھی شروع کردی ہے ۔
تفصیلات کے مطابق رائس ایکسپورٹرز ایسوسی کے وفد کا دورہ چین کامیابی سے جاری ہے ، جس دوران چاول کی برآمد کیلئے چین کے دو صوبوں کے ساتھ وفد نے ایم او یو سائن کر لیے ہیں، 30 سے 40 کروڑ ڈالر مالیت کے چاول کی فروخت کے معاہدے متوقع ہیں ہیں۔رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین جاوید جیلانی کا کہناتھا کہ چین کو پاکستان سے مکئی کی برآمد بھی جلد شروع ہو جائے گی،چین کو باسمتی اور نان باسمتی دونوں اقسام کے چاول برآمد کریں گے،رواں مالی سال چاول کی برآمدات دوبارہ 3ارب ڈالر کی سطح عبور کر جائیں گی، چین کا دورہ جاری ہے مزید آرڈرز ملنے کا امکان ہے۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :