پاک فوج کے زیر اہتمام آئی ایس پی آر ونٹر انٹرن شپ, 4500 سے زائد طلبہ کی شرکت
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
احمد منصور : پاک فوج کے زیر اہتمام آئی ایس پی آر ونٹر انٹرن شپ 2026 ملک کے 25 شہروں میں 27 مختلف مقامات پر منعقد کی جا رہی ہے، جس میں 4500 سے زائد طلبہ و طالبات شرکت کر رہے ہیں, یہ پروگرام نوجوانوں کو قومی ترقی، فکری مضبوطی اور اعتماد فراہم کرنے کے عزم کا مظہر ہے۔
آئی ایس پی آر انٹرن شپ قومی ترقی کیلئے نوجوانوں کو باصلاحیت اور بااعتماد بنانے کے عزم کا مظہر ہے، 12 جنوری سے 20 فروری تک جاری رہنے والی ونٹر انٹرن شپ میں 4500 سے زائد طلبہ شرکت کر رہےہیں۔
15 جنوری کو انٹر نیٹ سروسز مکمل طور پر فعال رہیں گی : پی ٹی اے
انٹرن شپ میں شامل طلباء و طالبات کو قومی سلامتی کے موضوعات پر خصوصی لیکچرز دیےجائیں گے، انٹرن شپ کا مقصد ملک کی ترقی و خوشحالی کیلئے نوجوانوں کو فکری، تعلیمی اور قومی سطح پر مضبوط بنانا ہے۔
پاک فوج کی پیشہ ورانہ تربیت سے آگاہی کیلئے فوجی تنصیبات کے دورے بھی انٹرن شپ پروگرام کا حصہ ہیں۔
طلبہ نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ’پاک فوج کے انٹر ن شپ پروگرام نوجوان نسل کی تربیت کے لیے نہایت ضروری ہیں۔
اے ایس پیز کو ایک ماہ کی تربیت کیلئے بیجنگ، چین بھیجا جائے گا: محسن نقوی
انٹرن شپ کے ذریعے سیکھنے، سوچنے اور عملی میدان میں آگے بڑھنے کے مواقع ملتے ہیں۔
طلبہ کے مطابق آئی ایس پی آر انٹرن شپ منفی پروپیگنڈاکے برعکس حقائق سے آگاہی کیلئے ایک مثبت پلیٹ فارم ہے۔
طلبہ نے پاک فوج سے اپنی محبت اور وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فوج ہم سے ہیں اور ہم فوج سے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: آئی ایس پی آر پاک فوج
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔