سابق مِس انڈیا کی شادی کی 15ویں سالگرہ پر طلاق، شوہر پر سنگین الزامات
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
ممبئی (ویب ڈیسک) سابق مس انڈیا اور بالی وڈ میں ابتدائی 2000ء کی دہائی میں مقبولیت حاصل کرنے والی مشہور اداکارہ سلینا جیٹلی نے شوہر پر تشدد، بچوں کی جدائی اور اثاثوں پر قبضے کی کوشش جیسے الزامات عائد کیے ہیں۔
سیلینا جیٹلی کی مشہور فلموں میں نو انٹری، جانشین، ٹام، ڈک اینڈ ہیری اور تھینک یو شامل ہے اور طویل عرصے سے بالی ووڈ میں کام نہیں کر رہی ہیں تاہم اب ان کی درد بھری کہانی نے ان کے مداحوں کو دکھی کردیا ہے۔
سلینا جیٹلی نے 2011ء میں آسٹریا کے بزنس مین پیٹر ہیگ سے شادی کی اور بعد ازاں بیرون ملک منتقل ہوگئیں، مداحوں کا خیال تھا کہ وہ ایک پرسکون گھریلو زندگی گزار رہی ہیں، تاہم اصل حقیقت اس وقت کھلی جب اداکارہ نے تصدیق کی کہ وہ اپنے شوہر سے علیحدہ ہو چکی ہیں۔
سیلینا جیٹلی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں اپنے سابق شوہر سے متعلق کہا کہ طلاق کا فیصلہ اچانک نہیں تھا بلکہ وہ برسوں تک تشدد کا شکار ہوتی رہیں اور بالآخر اپنی عزت نفس کی حفاظت کیلئے اس رشتے سے علیحدگی اختیار کی تاہم اس فیصلے کی انہیں بھاری قیمت چکانی پڑی اور وہ اپنے بچوں سے جدا ہو گئیں۔
بالی وڈ اداکارہ نے جذباتی پوسٹ میں بتایا کہ انہیں پڑوسیوں کی مدد سے رات گئے آسٹریا سے باہر نکلنا پڑا اور انکشاف کیا کہ وہ بہت کم رقم کے ساتھ بھارت واپس آئیں اور اس دوران اپنے بچوں کو پیچھے چھوڑنا پڑا اور اپنی عزت نفس کیلئے آواز اٹھاتے ہوئے انہوں نے اپنے بچوں کو بھی کھو دیا۔
انہوں نے کہا کہ 11 اکتوبر 2025ء کو رات تقریباَ ایک بجے وہ مسلسل تشدد سے بچنے کیلئے آسٹریا سے نکلنے میں کامیاب ہوئیں، جوائنٹ کسٹڈی کے عدالتی حکم کے باوجود انہیں اپنے بچوں سے بات کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی، ان کے بچوں کو ان کے خلاف بولنے کیلئے ان پر جذباتی دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
سلینا جیٹلی نے لکھا کہ بھارت واپس آنے کے بعد انہیں اپنے ہی گھر میں داخل ہونے کیلئے عدالت سے رجوع کرنا پڑا کیونکہ ان کے شوہر نے ملکیت ظاہر کی تھی اور طویل قانونی لڑائیوں کی وجہ سے انہیں مجبوراً بھاری قرضے لینا پڑا۔
انسٹاگرام پوسٹ میں سلینا جیٹلی نے طلاق کے حوالے سے چونکا دینے والا انکشاف کیا اور بتایا کہ ستمبر کے اوائل میں شادی کی 15ویں سالگرہ کے موقع پر ان کے شوہر انہیں یہ کہہ کر مقامی پوسٹ آفس لے گئے کہ ان کیلئے تحفہ آیا ہے، مگر وہاں انہیں تحفے کے بجائے طلاق کے کاغذات تھما دیے اور کہا یہ سالگرہ کا تحفہ ہے۔
انہوں کہا کہ اپنے بچوں کی خاطر کئی بار بغیر جھگڑے کے علیحدگی کی کوشش کی مگر مطالبہ کیا گیا کہ اپنی اس جائیداد سے بھی دستبردار ہوجائیں جو ان کے پاس شادی سے پہلے تھی اور ایسی شرائط قبول کریں جو ایک عورت اور ماں کے طور پر ان کی آزادی اور وقار کے خلاف تھیں۔
علاوہ ازیں سیلینا جیٹلی کو ایک اور مشکل کا سامنا ہے ان کے بھائی اس وقت متحدہ عرب امارات کی ایک جیل میں قید ہیں اور اداکارہ ان کیلئے قانونی مدد حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سلینا جیٹلی نے اپنے بچوں
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔