پاکستان نے واضح موقف اختیار کیا ہے کہ فلسطین ایک خودمختار ریاست ہونی چاہیے جو 1967 کی سرحدوں کے مطابق قائم ہو اور اس کا دارالحکومت الاقصیٰ ہو۔ ساتھ ہی پاکستان نے جموں و کشمیر کے عوام کے حقِ خود ارادیت کے لیے بھی عالمی سطح پر مسلسل حمایت جاری رکھنے پر زور دیا ہے، اور او آئی سی سمیت بین الاقوامی فورمز سے اس معاملے پر مزید اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین انداربی نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ پاکستانی نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے او آئی سی کے غیر معمولی اجلاس میں اپنے رفقاء سے ملاقاتوں میں فلسطین اور کشمیر کے معاملات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے او آئی سی کے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام کے حقِ خود ارادیت کے حصول کے لیے اپنا کردار مزید مضبوط کریں۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے ازبکستان، بنگلہ دیش، مالدیپ اور مصر کے ہم منصبوں کے ساتھ ملاقاتیں کیں اور سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ اور او آئی سی کے سیکرٹری جنرل سے بھی مذاکرات کیے۔ اس دوران انہوں نے نئے دفتر کی عمارت پر پاکستانی پرچم بھی لہرایا اور رِبن کٹنگ کے ذریعے عمارت کی افتتاحی تقریب میں حصہ لیا، جس کے بعد سیاہ اور سبز درختوں کی پودے لگانے کی تقریب بھی منعقد ہوئی۔

نائب وزیراعظم نے اس موقع پر سعودی حکام کی جانب سے فراہم کردہ تعاون کو سراہا اور کہا کہ حکومت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بہتر اور مؤثر قونصلر خدمات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ بریفنگ میں یہ بات بھی واضح کی گئی کہ پاکستان فلسطین اور کشمیر کے حقِ خود ارادیت کے اصولی موقف پر قائم ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس کے تحفظ کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

پڑھیں:

وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ

وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈی

وزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔ 

دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔

پاک چین سرمایہ کاری، زراعت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کیلئے مفاہمت کی 15 یادداشتوں پر دستخط

اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...

انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ