8 سے 10 جنوری ملک میں احتجاج نہیں بلکہ مکمل خانہ جنگی تھی، ایرانی وزیر
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
ایرانی وزیر انصاف امین حسین رحیمی کا کہنا ہے کہ 8 سے 10 جنوری کے دوران ملک میں احتجاج نہیں ہوا بلکہ یہ مکمل خانہ جنگی تھی۔
ایرانی وزیر امین حسین رحیمی نے کہا کہ ان دو دنوں میں گرفتار کیا گئے تمام افراد مجرم ہیں کیونکہ وہ اس وقت موقع پر موجود تھے۔
امین حسین رحیمی نے کابینہ اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ گرفتار افراد کے ساتھ کسی قسم کی رعایت یا نرمی نہیں برتی جائے گی۔
دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان سمیت 75 ممالک کے شہریوں کیلئے امیگرنٹ ویزا پراسیس روکنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا اطلاق 21 جنوری سے ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔