چار ہزار سے زائد پاکستانی ڈی پورٹ، ایف آئی اے نے بڑا فیصلہ کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
عرفان ملک: ایف آئی اے نے ائیرپورٹس سے ڈی پورٹ ہونے والے چار ہزار سے زائد افراد کی انکوائریز مکمل کر لیں۔
انکوائریز کے دوران بیرون ملک بھجوانے کے لیے جعلی اور غلط سفری دستاویزات کے استعمال کا انکشاف، متعدد مسافروں کو دھوکہ دینے والے ایجنٹس اور سہولت کاروں کی نشاندہی کر لی گئی۔
غلط دستاویزات پر بیرون ملک بھجوانے کی کوشش کرنے والے ایجنٹس کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کرنے کا فیصلہ، انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایجنٹس کے خلاف مقدمات درج کرنے کی تیاری مکمل، ڈی پورٹ ہونے والے مسافروں کے بیانات ریکارڈ کر لیے گئے۔
15 جنوری کو انٹر نیٹ سروسز مکمل طور پر فعال رہیں گی : پی ٹی اے
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ معصوم شہریوں کو لوٹنے والے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
غیر قانونی طریقوں سے بیرون ملک بھجوانے کے نیٹ ورکس توڑنے کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔