مریم نواز کے بیٹے جنید صفدر کی شادی، ولیمے کا کارڈ سوشل میڈیا پر وائرل
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بیٹے اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے پوتے جنید صفدر آئندہ کچھ روز میں ایک مرتبہ پھر شادی کے بندھن میں بندھ جائیں گے۔جنید صفدر کی شادی شانزے علی روحیل سے ہورہی ہے جو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی شیخ روحیل اصغر کی پوتی ہیں۔شادی کی تقریبات 16 جنوری 2026 سے شروع ہوں گی جب کہ جنید صفدر کی بارات 17 جنوری کو لیک سٹی جائے گی۔سوشل میڈیا پر وائرل کارڈ کے مطابق جنید صفدر کے ولیمے کی تقریب 18 جنوری 2026 کو شریف فارمز جاتِی اُمرا میں دوپہر ایک بجے منعقد ہوگی۔تاہم شریف خاندان کی جانب سے تقاریب کی تاریخ سے متعلق تصدیق یا تردید نہ ہوسکی۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ شیخ روحیل اصغر نے جنید صفدر کی دوسری شادی کی تصدیق کرتے ہوئے تقریبات کی کچھ تفصیلات بھی بتائی تھیں۔انہوں نے بتایا کہ میری پوتی شانزے اور جنید کی بہن ماہنور صفدر کی گہری دوستی ہے اور دونوں اکثر ایک دوسرے کے گھر جاتی رہتی ہیں، یہ یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ ماہنور نے اپنے بھائی کے لیے اس شادی کا انتخاب کیا لیکن شانزے اکثر مریم نواز سے ملتی رہتی تھیں، شاید اسی وجہ سے مریم نواز نے اس رشتے کے لیے اپنے بیٹے سے رابطہ کیا۔انہوں نے کہا کہ جب میرے بیٹے نے مجھ سے پوچھا، تو میں نے کہا کہ یہ خدا کی رحمت ہے کہ ہماری چھوٹی لڑکی اتنے معزز خاندان میں شادی کر رہی ہے اور میں نے اسے اس رشتے کو قبول کرنے کی حوصلہ افزائی کی۔واضح رہے کہ جنید صفدر پہلے بھی شادی کر چکے ہی، انہوں نے 2021 میں عائشہ سیف سے شادی کی تھی مگر یہ رشتہ زیادہ عرصے تک قائم نہ رہ سکا اور دونوں اکتوبر 2023 میں علیحدہ ہوگئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: جنید صفدر کی مریم نواز
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔