ڈاکٹر عمران فاروق کے قاتلوں کی مالی معاونت کا مقدمہ، ایم کیو ایم لندن کے 3 کارکنوں کی ضمانت منظور
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں ڈاکٹر عمران فاروق کے قاتلوں کی مالی معاونت کے کیس میں ایم کیو ایم لندن کے 3 کارکنوں کی ضمانت منظور کرلی گئی ہے۔
شاہدعرف متحدہ، شہزاد اور ماجد کو 5، 5 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔ مقدمے میں کہا گیا تھا کہ ملزمان نے بھارتی ایجنٹ محمد صدیق کے ذریعے بھارتی خفیہ ایجنسی را سے فنڈنگ حاصل کی۔
عابد زمان ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ مقدمہ 6 سال پہلے درج کیا گیا تھا۔ اسامہ علی ایڈووکیٹ نے کہا کہ 6 سال میں ملزمان کا تعلق ثابت نہیں کیا جاسکا ہے۔
وکلا صفائی کا کہنا تھا کہ مقدمہ فنڈنگ کا ہے لیکن رقم کتنی ہے کسی کو پتہ نہیں۔ ملزمان پر دہشتگردوں کی مالی معاونت ثابت نہیں ہوئی۔
ملزمان کیخلاف ایف آئی اے نے 2020 میں مقدمہ درج کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔