امریکا نے وینزویلا کے تیل کی فروخت شروع کر دی ، 500 ملین ڈالر کی رقم اکاؤنٹس میں محفوظ
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
امریکا نے وینزویلا کے ساتھ طے پانے والے 2 بلین ڈالر کے معاہدے کے تحت پہلی بار وینزویلا کے تیل کی فروخت مکمل کر لی ہے، جس کی مالیت تقریباً 500 ملین ڈالر ہے اور رقم امریکی کنٹرول والے بینک اکاؤنٹس میں رکھی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا نے وینزویلا سے روانہ ہونے والا ایک اور تیل بردار جہاز ضبط کرلیا
امریکی عہدیدار نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے کو بتایا ہے کہ وینزویلا کے تیل کی پہلی فروخت معاہدے کا حصہ ہے جو حال ہی میں واشنگٹن اور کاراکاس کے درمیان طے پایا تھا۔ مزید فروخت آنے والے دنوں اور ہفتوں میں متوقع ہے۔
ابتدائی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی، جس کی مالیت تقریباً 500 ملین ڈالر ہے ، امریکی حکومت کے زیرِ انتظام بینک اکاؤنٹس میں رکھی جا رہی ہے، جس کے بارے میں ایک انتظامی عہدیدار نے بتایا کہ یہ رقم جمع کرنے کے لیے ایک خصوصی حکم جاری کیا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق اس رقم کا مرکزی اکاؤنٹ قطر میں واقع ہے، جسے ایک غیرجانبدار مقام کے طور پر منتخب کیا گیا ہے جہاں فنڈز امریکی منظوری کے ساتھ بغیر ضبط کیے منتقل ہو سکتے ہیں۔
یہ فروخت وینزویلا اور امریکا کے درمیان تیل کے شعبے میں تعلقات میں ایک اہم پیش رفت کی علامت ہے، اور اس کے بعد مزید تجارتی سرگرمیوں کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا تیل کی فروخت وینزویلا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا تیل کی فروخت وینزویلا وینزویلا کے تیل کی
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔