دنیا میں چائے پینے کے شوقین ممالک کی فہرست جاری
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
دنیا بھر میں چائے کے استعمال سے متعلق تازہ فہرست سامنے آ گئی ہے، جس میں مختلف ممالک میں فی کس سالانہ چائے پینے کے اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں۔ فہرست کے مطابق ترکی دنیا کا سب سے زیادہ چائے پینے والا ملک بن گیا ہے، جہاں ایک فرد اوسطاً سال میں 3.16 کلوگرام چائے استعمال کرتا ہے۔
فہرست میں آئرلینڈ دوسرے جبکہ برطانیہ تیسرے نمبر پر موجود ہے۔ پاکستان نے بھی نمایاں مقام حاصل کرتے ہوئے فی کس 1.
دیگر نمایاں ممالک میں روس، مراکش، نیوزی لینڈ، مصر، جاپان اور سعودی عرب شامل ہیں، جہاں چائے کا استعمال خاصی مقبولیت رکھتا ہے۔ فہرست کے نچلے حصے میں چین، کینیڈا، انڈونیشیا اور سنگاپور جیسے ممالک شامل ہیں، جہاں چائے کا استعمال نسبتاً کم ہے۔
اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ چائے محض ایک مشروب نہیں بلکہ کئی ممالک میں ثقافت، مہمان نوازی اور روزمرہ زندگی کا اہم حصہ بن چکی ہے، خاص طور پر ترکی، برطانیہ اور پاکستان میں جہاں چائے سماجی زندگی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
???? Tea consumption per capita annually:
???????? Turkey – 3.16 kg
???????? Ireland – 2.19 kg
???????? UK – 1.94 kg
???????? Pakistan – 1.50 kg
???????? Iran – 1.50 kg
???????? Russia – 1.38 kg
???????? Morocco – 1.22 kg
???????? New Zealand – 1.19 kg
???????? Chile – 1.19 kg
???????? Egypt – 1.01 kg
???????? Poland – 1.00 kg
???????? Japan -… pic.twitter.com/4DXTZ2MNJ7
— Stats Globe (@statsglobe) January 3, 2026
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔