کیا آج انٹرنیٹ سروس میں خلل کا سامنا کرنا پڑے گا؟ پی ٹی اے کی وضاحت آگئی
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
— فائل فوٹو
مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر افواہیں زیر گردش ہیں کہ آج پاکستان بھر میں انٹرنیٹ صارفین کو بندش یا سروس میں خلل کا سامنا رہے گا، جس کے بعد صارفین میں تشویش پائی گئی ہے۔
تاہم، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اس معاملے پر وضاحت جاری کرتے ہوئے زیر گردش افواہوں کی واضح تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز کی بندش یا خلل کی اطلاعات بے بنیاد ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پی ٹی اے نے پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ 15 جنوری کو انٹرنیٹ سروسز میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ سے متعلق معلومات غلط اور حقائق کے منافی ہیں۔
اتھارٹی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستان بھر میں انٹرنیٹ سروسز مکمل طور پر مستحکم اور فعال ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق اس وقت زیرِ سمندر کیبل کی معمول کی مرمت کا کام جاری ہے، تاہم اس سے انٹرنیٹ سروسز متاثر نہیں ہوں گی۔
حالیہ دنوں میں ملک بھر میں انٹرنیٹ کی سست رفتاری، محدود رسائی اور وقتی تعطل کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے، اس مسئلے کی وجہ زیر سمندر کیبلز کی دیکھ بھال، اسپیکٹرم کی کمی اور حفاظتی اقدامات کو قرار دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم کی نیلامی کی منظوری دی تھی، جس سے ناصرف انٹرنیٹ کی رفتار میں بہتری متوقع ہے بلکہ ملک میں 5 جی سروسز کے آغاز کی راہ بھی ہموار ہوگی۔
اوکلا اسپیڈ ٹیسٹ گلوبل انڈیکس کے مطابق پاکستان موبائل انٹرنیٹ کی رفتار کے حوالے سے عالمی سطح پر 97ویں نمبر پر ہے، نومبر میں اوسطً رفتار 24.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بھر میں انٹرنیٹ انٹرنیٹ سروسز پی ٹی اے
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک