data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

معروف کاروباری شخصیت ایلون مسک کی ملکیت میں کام کرنے والی مصنوعی ذہانت کی کمپنی ایکس اے آئی نے اپنے چیٹ بوٹ گروک میں تصاویر بنانے اور ان میں ترمیم سے متعلق سخت ترین پابندیاں نافذ کر دی ہیں۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کی ریاست کیلیفورنیا، یورپ اور دیگر خطوں میں حکام نے گروک کے ذریعے قابلِ اعتراض اور فحش نوعیت کی تصاویر تیار ہونے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کمپنی سے وضاحتیں طلب کی تھیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق نئی پالیسی کے تحت گروک اب حقیقی افراد کی تصاویر کو ایسے لباس، انداز یا حالت میں تبدیل نہیں کر سکے گا جو غیر اخلاقی، حد سے زیادہ عریاں یا توہین آمیز سمجھی جاتی ہوں۔ یہ پابندیاں تمام صارفین پر یکساں طور پر لاگو ہوں گی، خواہ وہ مفت اکاؤنٹ استعمال کر رہے ہوں یا ادائیگی کرنے والے سبسکرائبرز ہوں۔

ایکس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تکنیکی سطح پر فوری اقدامات نافذ کر دیے گئے ہیں، جن کے تحت گروک اور ایکس کے صارفین کو افراد کی تصاویر کو بیکنی، زیرِ لباس یا اس نوعیت کے دیگر ملبوسات میں تبدیل کرنے کی سہولت مکمل طور پر بلاک کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ صارفین کو جغرافیائی بنیادوں پر تصاویر تیار کرنے یا کسی خاص مقام سے منسلک مواد بنانے سے بھی روک دیا گیا ہے۔

کمپنی نے واضح کیا کہ نئی پابندیاں کسی استثنا کے بغیر نافذ ہوں گی اور ان کا اطلاق ہر صارف پر یکساں ہو گا۔ اس اقدام کا مقصد ایسے مواد کی روک تھام ہے جو کسی فرد کی عزت، وقار اور نجی زندگی کو نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتا ہو۔

یہ پیش رفت اس پس منظر میں سامنے آئی ہے کہ حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر نہایت حقیقت سے قریب ایسی تصاویر کی بھرمار دیکھنے میں آئی، جن میں خواتین کو مختصر لباس، توہین آمیز انداز یا جسمانی تشدد کے نشانات کے ساتھ دکھایا گیا۔ بعض واقعات میں نابالغوں کی تصاویر کو ڈیجیٹل طور پر اس طرح تبدیل کیا گیا کہ انہیں صرف تیراکی کے لباس میں پیش کیا گیا، جس پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا اور کمپنی کو کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

ناقدین کا مؤقف تھا کہ یہ تصاویر اکثر متاثرہ افراد کی اجازت کے بغیر تیار کی گئیں، جس سے نہ صرف ان کی ساکھ متاثر ہوئی بلکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر صارفین کے تحفظ سے متعلق سنگین سوالات بھی جنم لے آئے۔

ان الزامات پر بدھ کے روز ایلون مسک نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں گروک کے ذریعے کسی نابالغ کی عریاں تصاویر تیار ہونے کا کوئی علم نہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ گروک خود سے تصاویر تخلیق نہیں کرتا بلکہ صارف کی درخواست پر کام کرتا ہے، اس چیٹ بوٹ کو اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ غیر قانونی اور غیر اخلاقی درخواستوں کو مسترد کرے اور ہر ملک یا ریاست کے مقامی قوانین کی پابندی کو یقینی بنائے۔

تاہم مسک کے بیان کے باوجود کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزم اور ریاست کے اٹارنی جنرل روب بونٹا نے ایکس اے آئی سے فوری جواب طلب کرتے ہوئے کمپنی کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

کیلیفورنیا کے اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریاست چاہتی ہے ایکس اور ایکس اے آئی اس نوعیت کے مواد کی تیاری اور ترسیل کو روکنے کے لیے واضح، مؤثر اور قابلِ عمل اقدامات کریں، جبکہ گورنر نیوزم نے بھی کمپنی کو جوابدہ ٹھہرانے پر زور دیا۔

امریکا کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی اس معاملے پر ردعمل سامنے آیا ہے۔ انڈونیشیا نے عارضی طور پر گروک تک رسائی معطل کر دی ہے، جبکہ ملائیشیا اور بھارت میں بھی حکام نے نگرانی اور ممکنہ کارروائی کے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ بھارت نے بتایا کہ ایکس نے سرکاری شکایات کے بعد ہزاروں پوسٹس اور متعدد صارف اکاؤنٹس ہٹا دیے ہیں۔

یورپ اور برطانیہ میں ریگولیٹری ادارے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا ایکس اور گروک مقامی ڈیجیٹل قوانین اور صارف تحفظ کے ضوابط کی خلاف ورزی کے مرتکب تو نہیں ہو رہے۔ لندن میں ایک بس اسٹاپ پر ایلون مسک کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے بائیکاٹ کا مطالبہ کرنے والے پوسٹرز بھی آویزاں کیے گئے، جو عوامی غصے اور عدم اطمینان کی علامت سمجھے جا رہے ہیں۔

ابتدائی طور پر ایلون مسک نے اس تنازعے پر سوشل میڈیا پر نسبتاً محتاط ردعمل دیا، تاہم بعد ازاں ایکس کی جانب سے کہا گیا کہ بچوں سے متعلق جنسی استحصال کے مواد کی رپورٹس کو نہایت سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور اس کے خلاف سخت نگرانی اور کارروائی جاری ہے۔ اس کے باوجود کیلیفورنیا کے حکام کے تازہ بیانات پر ایکس اے آئی اور ایکس کی جانب سے براہِ راست کوئی تفصیلی مؤقف سامنے نہیں آیا، جبکہ صحافیوں کے سوالات کے جواب میں کمپنی کی طرف سے صرف ایک عمومی خودکار پیغام موصول ہوا۔

مجموعی طور پر گروک اور دیگر اے آئی ٹیکنالوجیز کے استعمال پر بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ معاملہ اب محض ٹیکنالوجی کا نہیں رہا بلکہ قانون، اخلاقیات، صارفین کے تحفظ اور ریاستی ذمہ داریوں سے بھی گہرے طور پر جڑ چکا ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر واضح پالیسی سازی اور مؤثر ضابطہ کار کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایکس اے آئی ایلون مسک کی تصاویر

پڑھیں:

اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان

تصویر، فیس بک

اکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان ریونیو (اے جی پی آر) نے مالی سال 26-2025 کی ادائیگیوں کے کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان کردیا۔

اے جی پی آر کے اعلامیے کے مطابق تمام ڈرائینگ اور ڈسبرسنگ آفیسرز کو حالیہ کلیمز 12 جون تک جمع کرانا ہوں گے۔

اعلامیے کے مطابق 12 جون 2026ء تک جاری کردہ ٹوکنز پر تمام غیرمنظور شدہ بلوں کو دوبارہ جمع کرانے کی تاریخ 15 جون ہوگی۔

اعلامیے کے مطابق اے جی پی آر اسلام آباد اور ذیلی دفاتر کےاسائنمنٹ اکاؤنٹس کےلیے ریلیز جمع کرانے کی آخری تاریخ 19 جون ہوگی۔

اے جی پی آر کے اعلامیے کے مطابق 12 جون 2026ء کے بعد اعزازیہ کا کوئی کلیم قبول نہیں کیا جائے گا۔ موجودہ مالی سال سے متعلق تنخواہ کے چیک رواں مالی سال کے اختتام پر زائد المعیاد ہوجائیں گے۔

اے جی پی آر کے اعلامیے کے مطابق 30 جون 2026ء کے بعد موجودہ مالی سال کےلیے کوئی متبادل چیک جاری نہیں کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟