پنجاب میں گندم کی قیمت میں 700 روپے فی من اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
لاہور سمیت پنجاب بھر میں گندم کی قیمت میں 700 روپے فی من اضافہ ہوگیا۔مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ گندم کی قیمت 4400 روپے فی من سے بھی تجاوز کر گئی، راولپنڈی میں گندم فی من 48 سو روپے ہوگئی، جبکہ 15 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 1500 روپے سے بڑھ کر 1750 ہوگئی ہے۔صوبائی دارالحکومت لاہور میں گندم فی من 4450 روپے میں فروخت ہونے لگی ہے۔مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ گوجرانوالہ اور گجرات میں گندم کی قیمت فی من 4500 روپے جبکہ ملتان میں 4450 روپے فی من فروخت ہو رہی ہے، اس کے علاوہ بہاولپور اور ڈی جی خان میں گندم کی قیمت فی من 4400 روپے ہے۔لاہور کے متعدد علاقوں میں 10 کلو اور 20 کلو والا آٹے کا تھیلا نایاب ہوگیا۔چیئرمین فلور ملز ایسوسی ایشن عاصم رضا کا کہنا ہے کہ گندم کی قلت کے باعث آٹے کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔دوسری جانب محکمہ خوراک پنجاب نے کہا کہ آٹے کی کوئی قلت نہیں ہے، بازار میں وافر مقدار میں موجود ہے، 10 اور 20 کلو آٹے کا تھیلا دکانوں پر وافر مقدار میں دستیاب ہے۔محکمہ خوراک پنجاب کے مطابق 7 سو سے زائد ملیں سرکاری گندم والا سستا آٹا فراہم کر رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔