پراسیکیوشن مطمئن کرنے میں ناکام، ہائیکورٹ، سزائے موت کے مجرم کی اپیل منظور، بری
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
لاہور (خبر نگار) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر اور جسٹس علی ضیاءباجوہ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے سزائے موت کے مجرم الفت کی اپیل منظور کرتے ہوئے بری کر دیا۔ عدالت نے ریمارکس دئیے کہ پراسیکیوشن کے کیس میں متعدد نقائص پائے جاتے ہیں اور پراسیکیوشن وقوعہ کی رپورٹ میں تاخیر پر عدالت کو مطمئن کرنے میں ناکام رہی۔ وقوعہ دو گھنٹے کی تاخیر سے رپورٹ کیا گیا۔ ٹرائل کورٹ نے 2022ءمیں مجرم الفت کو سزائے موت سنائی تھی تاہم عدالت نے چار سال بعد مجرم الفت کی سزائے موت کالعدم قرار دے دی۔ دریں اثناءلاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر اور جسٹس علی ضیاءباجوہ نے منشیات کیس میں اپیل منظور کرتے ہوئے مجرم توحید خان کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔ ایڈیشنل سیشن جج نے مجرم کو دو سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سزائے موت
پڑھیں:
ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
ارب پتی ٹیکنالوجی کاروباری شخصیت ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ ان کا مصنوعی ذہانت پر مبنی پلیٹ فارم گروک امیجن (Grok Imagine) رواں سال کے اختتام سے پہلے قدیم یونانی رزمیہ شاہکار اوڈیسی پر مبنی ایک مکمل فلم تیار کرے گا۔ مسک کا کہنا ہے کہ یہ فلم شاعر ہومر کی اصل تخلیق کے مطابق ہوگی اور تاریخی اعتبار سے بھی زیادہ درست انداز میں پیش کی جائے گی۔
ایلون مسک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ اے آئی کے ذریعے بنائی جانے والی یہ فلم ہومر کے اصل فن اور کہانی کی حقیقی روح کی عکاسی کرے گی۔ انہوں نے اس اعلان کے ساتھ تقریباً تین منٹ طویل ایک اے آئی ویڈیو بھی شیئر کی، جس میں اوڈیسیئس اور کلیپسو کے درمیان ایک منظر دکھایا گیا ہے۔
Before this year ends, Grok Imagine will make a full-length movie of The Odyssey that is historically accurate and true to the art of Homer https://t.co/bVHzUmY9WN
— Elon Musk (@elonmusk) July 22, 2026اس سے قبل بھی ایلون مسک نے ایک صارف کی اس تجویز کی حمایت کی تھی کہ ہدایت کار میل گبسن تقریباً 100 ملین ڈالر کی لاگت سے اوڈیسی پر ایسی فلم بنائیں جس میں تاریخی طور پر درست جہاز، ہتھیار، زرہیں، کردار اور ہومر کی اصل نظم کے مکالمے شامل ہوں۔ اس تجویز پر مسک نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا تھا، ’میں تیار ہوں۔‘
دوسری جانب ایلون مسک حالیہ دنوں میں برطانوی نژاد امریکی فلم ساز کرسٹوفر نولن کی فلم اوڈیسی پر بھی سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ نولن نے ایوارڈز حاصل کرنے کی غرض سے اصل داستان میں تبدیلیاں کیں۔ انہوں نے فلم کی کاسٹنگ پر بھی اعتراض اٹھایا، خاص طور پر اداکارہ لوپیٹا نیونگو کو ہیلن آف ٹرائے کے کردار میں لینے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ ایک موقع پر نولن کو ’نسل پرستانہ رویہ رکھنے والا‘ فلم ساز بھی قرار دیا۔
تاہم ایلون مسک کی تنقید کے باوجود کرسٹوفر نولن کی اوڈیسی نے باکس آفس پر شاندار آغاز کیا ہے۔ باکس آفس رپورٹس کے مطابق فلم نے ریلیز کے پہلے ہفتے میں دنیا بھر سے 264.06 ملین ڈالر سے زائد کا بزنس کیا، جس کے بعد اسے رواں برس کی نمایاں کامیاب فلموں میں شمار کیا جا رہا ہے۔