جسٹس (ر) منصور علی شاہ کا پریکٹس شروع کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
سپریم کورٹ کے سابق جج منصور علی شاہ نے قانونی پریکٹس شروع کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا تاہم ان کا فوکس انٹرنیشنل اور مقامی ثالثی،اسٹرٹیجک قانونی مشاورت ہوگی اس کے ساتھ ساتھ وہ موجودہ ٹیچنگ کا کام بھی جاری رکھیں گے۔
لنکڈ اِن میں درج ان کے پروفائل کے مطابق یہ ذکر کیا گیا ہے کہ جسٹس (ر) منصور علی شاہ نے 13 نومبر 2025 کو آئینی اصولوں کے تحت، آئین اور قانون کی حکمرانی کے لیے سپریم کورٹ سے استعفیٰ دیا۔
پروفائل کے مطابق جسٹس (ر) منصور علی شاہ پاکستان کے 45ویں چیف جسٹس کے طور پر عہدہ سنبھالنے کے لیے قطار میں تھے لیکن متنازعہ 26 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے انہیں خارج کر دیا گیا، جس نے سپریم کورٹ میں سنیارٹی سٹرکچر کو تبدیل کر دیا۔
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ فی الحال LUMS میں پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں27ویں ترمیم کی منظوری: جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ مستعفی
پاکستان بار کونسل کے رکن بیرسٹر صلاح الدین احمد کا کہنا ہے کہ مستعفی ہونے کے بعد وہ جو چاہیں کرنے کیلئے آزاد ہیں۔
لیکن بدقسمتی ہے کہ وہ شخص جس کی خدمات کو ییل اور یو پین جیسی اعلیٰ امریکی یونیورسٹیوں نے حاصل کیا ہے وہ سیاسی مصلحت اور کچھ ساتھیوں کی لالچ کی وجہ سے ہمارے عدالتی نظام سے محروم ہو جائے۔
تاہم وکلاء کے ایک دھڑے کا کہنا ہے کہ جسٹس (ر) منصور علی شاہ کو بار میں اپنے دوروں کے ذریعے عدلیہ کی آزادی کیلئے مزاحمت کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔ سابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق محمود کھوکھر کہتے ہیں کہ قوم پر ریاست کی بالادستی تباہ کن ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: منصور علی شاہ
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔