فواد چودھری کا نام سفری پابندی کی فہرست سے نہ نکالنے پر وزارت داخلہ سے رپورٹ طلب
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نےعدالتی حکم کے باوجود سابق وفاقی وزیر فوادچودھری کا نام سفری پابندی کی فہرست سے نہ نکالنے پرتوہین عدالت کی درخواست پر وزارت داخلہ سے رپورٹ طلب کر لی۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق جسٹس انعام امین منہاس نے فواد چودھری کی درخواست پر سماعت کی جبکہ درخواست گزار کی جانب سے فیصل فرید چودھری ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
فیصل فرید چودھری ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت پہلے ہی فواد چودھری کا نام سفری پابندی کی فہرست سے نکالنے کا حکم دے چکی ہے تاہم عدالتی احکامات کے باوجود تاحال ان کا نام فہرست میں شامل ہے، جو عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہے۔
بِندی لگانے پر تنازع، شمون عباسی بشریٰ انصاری کے دفاع میں سامنے آگئے
درخواست گزار کے وکیل نے استدعا کی کہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر متعلقہ حکام کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی جائے۔
عدالت نے وزارت داخلہ سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سیکرٹری داخلہ، ڈی جی امیگریشن اور ڈائریکٹر امیگریشن کو نوٹس بھی جاری کر دیے ہیں، عدالت نے فریقین سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کا نام
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔