اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے)پاکستان تحریک انصاف کے بانی راہنما اکبر ایس بابر نے کہا ہے کہ محمودخان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے کے سپیکر کے متوقع فیصلے کو وہ قانونی فورم پر چیلنج کرنے کا اعلان کرتے ہیں،, اپنے جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ ان کو اپوزیشن لیڈر نوٹیفائی کرنا سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہوگا۔.

اکبر ایس بابر نے کہا کہ سپریم کورٹ پی ایل ڈی 2018 (صفحہ 370)میں قرار دے چکی ہے کہ سزا یافتہ شخص سیاسی فیصلوں کا مجاز نہیں قومی اسمبلی کے رولز سپیکر قومی اسمبلی کو ہرگز اجازت نہیں دیتے کہ سزا یافتہ کی ایما پر اپوزیشن لیڈر تعینات کریں سپریم کورٹ کے واضح فیصلے کی خلاف ورزی توہین عدالت اور ” مک مکا کی سیاست “کی علامت ہوگی تحریک انصاف کے بانی رہنماءنے کہا کہ مفاہمت کے نام پر ایسی ”مک مکا سیاست “دفن کرنے کا وقت آگیا ہے انہوں نے کہا کہ بیرونی دشمنوں کی طرح ، اندرونی دشمنوں کے خلاف معرکہ حق کا دوسرا راو نڈ شروع ہونے کو ہے اس معرکہ حق میں بیرونی دشمنوں کے اشاروں پرکام کرنے والے اندرونی دشمنوں سے فیصلہ کن مقابلہ کریں گے اکبر ایس بابر نے کہا کہ سیاسی، قانونی، اور میڈیا کے محاذوں پر یہ جنگ لڑیں گے۔ انشاءاللہ اندرونی دشمنوں کے خلاف معرکہ حق میں بھی فتح پاکستان اور عوام کی ہوگی۔ 

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: اکبر ایس بابر اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ

پڑھیں:

نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹو 

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ: درست ویزا، ٹکٹ اور سفری دستاویزات والے مسافر کو آف لوڈ کرنا غیر قانونی قرار

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔

عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا