واشنگٹن: امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف زور دار اور فیصلہ کن فوجی کارروائی کے حق میں ہیں اور وہ کسی طویل جنگ کے بجائے مختصر مگر مؤثر حملہ چاہتے ہیں۔

امریکی ٹی وی رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ کی سوچ یہ ہے کہ محدود مدت کی کارروائی کے ذریعے ایران پر دباؤ ڈالا جائے تاکہ طویل عسکری تنازع سے بچا جا سکے۔

دوسری جانب اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی آرمی چیف نے ملک بھر میں فوری دفاعی تیاریوں کا حکم دے دیا ہے۔ شمالی اسرائیل سمیت مختلف علاقوں میں بم شیلٹرز کھول دیے گئے ہیں، جبکہ اسرائیل کو توقع ہے کہ امریکا ایران پر کسی بھی حملے سے قبل پیشگی اطلاع دے گا۔

علاقائی کشیدگی کے پیش نظر جرمن ایئرلائن نے اسرائیل کے لیے رات کی پروازیں 19 جنوری تک معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں

ایران میں پُرتشدد مظاہرے رک گئے، صدر ٹرمپ نے بھی تسلیم کر لیا

ایران پر کن اہداف کو نشانہ بنانا ہے؛ پینٹاگون نے ٹرمپ کو فہرست تھما دی

گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کے سوا کچھ بھی قابلِ قبول نہیں؛ ٹرمپ

ادھر ایران میں ممکنہ سکیورٹی خدشات کے باعث امریکا کے بعد اسپین، پولینڈ اور اٹلی نے بھی اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے مطابق ایران میں تقریباً 600 اطالوی شہری موجود ہیں، جن میں اکثریت دارالحکومت تہران میں مقیم ہے۔ وزارت نے شہریوں کو کہا ہے کہ وہ سکیورٹی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ایران سے انخلا کی کوشش کریں۔

پولینڈ کی وزارتِ خارجہ نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے اپنے شہریوں کو فوری انخلا کی ہدایت کی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ نے ایران سے اپنا سفارتی عملہ واپس بلا لیا ہے جبکہ برطانوی سفیر کو بھی تہران سے واپس طلب کر لیا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل