ٹرمپ ایران کے خلاف زور دار اور فیصلہ کن فوجی کارروائی کے حق میں ہیں، امریکی میڈیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
واشنگٹن: امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف زور دار اور فیصلہ کن فوجی کارروائی کے حق میں ہیں اور وہ کسی طویل جنگ کے بجائے مختصر مگر مؤثر حملہ چاہتے ہیں۔
امریکی ٹی وی رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ کی سوچ یہ ہے کہ محدود مدت کی کارروائی کے ذریعے ایران پر دباؤ ڈالا جائے تاکہ طویل عسکری تنازع سے بچا جا سکے۔
دوسری جانب اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی آرمی چیف نے ملک بھر میں فوری دفاعی تیاریوں کا حکم دے دیا ہے۔ شمالی اسرائیل سمیت مختلف علاقوں میں بم شیلٹرز کھول دیے گئے ہیں، جبکہ اسرائیل کو توقع ہے کہ امریکا ایران پر کسی بھی حملے سے قبل پیشگی اطلاع دے گا۔
علاقائی کشیدگی کے پیش نظر جرمن ایئرلائن نے اسرائیل کے لیے رات کی پروازیں 19 جنوری تک معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
مزید پڑھیںایران میں پُرتشدد مظاہرے رک گئے، صدر ٹرمپ نے بھی تسلیم کر لیا
ایران پر کن اہداف کو نشانہ بنانا ہے؛ پینٹاگون نے ٹرمپ کو فہرست تھما دی
گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کے سوا کچھ بھی قابلِ قبول نہیں؛ ٹرمپ
ادھر ایران میں ممکنہ سکیورٹی خدشات کے باعث امریکا کے بعد اسپین، پولینڈ اور اٹلی نے بھی اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے مطابق ایران میں تقریباً 600 اطالوی شہری موجود ہیں، جن میں اکثریت دارالحکومت تہران میں مقیم ہے۔ وزارت نے شہریوں کو کہا ہے کہ وہ سکیورٹی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ایران سے انخلا کی کوشش کریں۔
پولینڈ کی وزارتِ خارجہ نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے اپنے شہریوں کو فوری انخلا کی ہدایت کی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ نے ایران سے اپنا سفارتی عملہ واپس بلا لیا ہے جبکہ برطانوی سفیر کو بھی تہران سے واپس طلب کر لیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔