ایران میں پُرتشدد مظاہرے رک گئے، صدر ٹرمپ نے بھی تسلیم کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
واشنگٹن:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے متعدد اہم قومی اور بین الاقوامی امور پر موقف واضح کیا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں مظاہرین کے قتل و غارت کا سلسلہ بند ہو گیا ہے اور اگر ایران نے پھانسیاں دینے پر عملدرآمد کیا تو امریکا سخت ایکشن لینے پر مجبور ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا مظاہرین کے خلاف تشدد جاری رکھنے کی صورت میں سخت ردعمل دے گا اور اس کی تحقیقات کی جائیں گی۔
صدر ٹرمپ نے معدنی ذخائر اور سیمی کنڈکٹر چپس کے حوالے سے نئے ایگزیکٹو آرڈرز پر بھی دستخط کر دیے۔
مزید پڑھیںایران پر کن اہداف کو نشانہ بنانا ہے؛ پینٹاگون نے ٹرمپ کو فہرست تھما دی
ایران کی سعودیہ، قطر، امارات میں امریکی فوجی اڈے تباہ کرنے کی جوابی دھمکی
ایران پر امریکی حملہ رکوانے کیلیے 3 عرب ممالک میدان میں آگئے؛ ٹرمپ سے رابطے
انہوں نے چپس کی فروخت پر 25 فیصد وصولی کی اجازت دینے والا آرڈر منظور کیا۔
بین الاقوامی تعلقات پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وینزویلا میں جس نے راز فاش کیا تھا، اسے پہچان لیا گیا اور وہ جیل میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وینزویلا کی قیادت سے بات چیت بہت اچھی رہی۔
ڈنمارک کے بارے میں ٹرمپ نے کہا کہ تعلقات بہت اچھے ہیں اور گرین لینڈ کی ضرورت ہے، دیکھیں کیا ہوتا ہے۔
معاشی امور پر صدر ٹرمپ نے بتایا کہ امریکا میں 18 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری واپس لائی گئی ہے، جو ملکی معیشت کے لیے اہم سنگ میل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔