صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر گرین لینڈ کو امریکا کا حصہ بنانے کے اپنے عزم کا کھل کر اظہار کیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کو اپنی قومی سلامتی کے لیے گرین لینڈ کی اشد ضرورت ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اسی لیے گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کے علاوہ کوئی بھی آپشن قابلِ قبول نہیں ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ نیٹو کو گرین لینڈ کے معاملے میں امریکا کی قیادت کرنی چاہیے بصورت دیگر روس یا چین اس خطے میں اثر و رسوخ حاصل کر سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر گرین لینڈ امریکا کے ہاتھ میں ہو تو نیٹو کہیں زیادہ مضبوط اور مؤثر بن جاتا ہے۔

خیال رہے کہ صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ڈنمارک اور گرین لینڈ کے اعلیٰ حکام سے مذاکرات کی تیاری کر رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ کے بیانات کے باوجود گرین لینڈ کی حکومت کا کہنا ہے کہ ہمارا ملک فروخت کے لیے نہیں ہے۔

فرانس کے وزیر خارجہ نے گرین لینڈ سے متعلق امریکی بیانات کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے “امریکی بلیک میلنگ” قرار دیا ہے۔

دیگر یورپی ممالک نے بھی گرین لینڈ سے متعلق صدر ٹرمپ کے بیانات کو شدید کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کسی بھی ملک کی سالمیت کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: گرین لینڈ

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل