ایران پر امریکی حملہ رکوانے کیلیے 3 عرب ممالک میدان میں آگئے؛ ٹرمپ سے رابطے
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
سعودی عرب، قطر اور عمان نے صدر ٹرمپ کے ایران پر حملے کی دھمکی پر کشیدگی کے خاتمے کے لیے خفیہ سفارت کاری کا آغاز کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے سی این این کے مطابق ایران کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کے خدشات کے پیشِ نظر خلیجی عرب ممالک نے پسِ پردہ سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔
سعودی عرب، قطر اور عمان امریکا کے قریبی اتحادی ہونے کے باوجود ایران پر حملے کے ممکنہ نتائج پر شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔
یہ بات سی این این سے گفتگو میں سفارتی عمل کی براہ راست معلومات رکھنے والے ایک علاقائی عہدیدار نے بتائی۔
انھوں نے مزید بتایا کہ ان ممالک کا مؤقف ہے کہ ایران پر کسی بھی فوجی کارروائی کے اثرات صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کے سیکیورٹی اور معاشی اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ میں محسوس کیے جائیں گے۔
سی این این کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض عرب حکومتوں نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ ایران پر حملہ احتجاجی تحریک کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔
عرب حکومتوں کا مزید کہنا تھا کہ ایران پر فوجی کارروائی کا الٹا اثر ہوسکتا ہے جس سے ایران میں مختلف سیاسی اور سماجی گروہوں کو اختلافات بھلا کر حکومت کے ساتھ کھڑے ہونے کا موقع فراہم کردے گا۔
سی این این کے بقول سعودی عرب، قطر اور عمان کی حکومتوں سے اس پر مؤقف جاننے کے لیے رابطوں کی کوششوں کا جواب دینے سے گریز کیا گیا۔
یاد رہے کہ عرب ممالک کی یہ خفیہ سفارتی کوششیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی حکام نے مظاہرین کو نقصان پہنچایا تو امریکا سخت فوجی کارروائی کرسکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں ایران کے مظاہرین کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ اداروں کا کنٹرول سنبھال لیں، احتجاج جاری رکھیں، مدد بس آ رہی ہے۔
صدر ٹرمپ کے ان بیانات کے بعد خطے میں بے چینی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکا کسی بھی وقت عسکری اقدام کر سکتا ہے۔
جس کے جواب میں ایران نے جوابی دھمکی دی ہے کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں، تنصیبات اور مفادات کو نشانہ بنایا جائے گا۔
یہ بیان خاص طور پر خلیجی ممالک کے لیے تشویش کا باعث ہے کیونکہ سعودی عرب، قطر، بحرین، کویت اور دیگر ممالک میں امریکی فوجی اڈے اور اہلکار موجود ہیں جنہیں ایران ماضی میں نشانہ بنانے کی دھمکیاں دیتا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فوجی کارروائی ایران پر کے لیے
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔