سعودی عرب، قطر اور عمان نے صدر ٹرمپ کے ایران پر حملے کی دھمکی پر کشیدگی کے خاتمے کے لیے خفیہ سفارت کاری کا آغاز کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے سی این این کے مطابق ایران کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کے خدشات کے پیشِ نظر خلیجی عرب ممالک نے پسِ پردہ سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔

سعودی عرب، قطر اور عمان امریکا کے قریبی اتحادی ہونے کے باوجود ایران پر حملے کے ممکنہ نتائج پر شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔

یہ بات سی این این سے گفتگو میں سفارتی عمل کی براہ راست معلومات رکھنے والے ایک علاقائی عہدیدار نے بتائی۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ان ممالک کا مؤقف ہے کہ ایران پر کسی بھی فوجی کارروائی کے اثرات صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کے سیکیورٹی اور معاشی اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ میں محسوس کیے جائیں گے۔

سی این این کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض عرب حکومتوں نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ ایران پر حملہ احتجاجی تحریک کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

عرب حکومتوں کا مزید کہنا تھا کہ ایران پر فوجی کارروائی کا الٹا اثر ہوسکتا ہے جس سے ایران میں مختلف سیاسی اور سماجی گروہوں کو اختلافات بھلا کر حکومت کے ساتھ کھڑے ہونے کا موقع فراہم کردے گا۔

سی این این کے بقول سعودی عرب، قطر اور عمان کی حکومتوں سے اس پر مؤقف جاننے کے لیے رابطوں کی کوششوں کا جواب دینے سے گریز کیا گیا۔

یاد رہے کہ عرب ممالک کی یہ خفیہ سفارتی کوششیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی حکام نے مظاہرین کو نقصان پہنچایا تو امریکا سخت فوجی کارروائی کرسکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں ایران کے مظاہرین کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ اداروں کا کنٹرول سنبھال لیں، احتجاج جاری رکھیں، مدد بس آ رہی ہے۔

صدر ٹرمپ کے ان بیانات کے بعد خطے میں بے چینی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکا کسی بھی وقت عسکری اقدام کر سکتا ہے۔

جس کے جواب میں ایران نے جوابی دھمکی دی ہے کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں، تنصیبات اور مفادات کو نشانہ بنایا جائے گا۔

یہ بیان خاص طور پر خلیجی ممالک کے لیے تشویش کا باعث ہے کیونکہ سعودی عرب، قطر، بحرین، کویت اور دیگر ممالک میں امریکی فوجی اڈے اور اہلکار موجود ہیں جنہیں ایران ماضی میں نشانہ بنانے کی دھمکیاں دیتا رہا ہے۔

 

 .

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: فوجی کارروائی ایران پر کے لیے

پڑھیں:

پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ

 ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔

 سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی