ٹرمپ کا سپریم کورٹ کو ٹیرف کے معاملے پر انتباہ: فیصلہ خلاف آیا تو اربوں ڈالر کی ادائیگیاں ناممکن ہوں گی
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
ٹرمپ کا سپریم کورٹ کو ٹیرف کے معاملے پر انتباہ: فیصلہ خلاف آیا تو اربوں ڈالر کی ادائیگیاں ناممکن ہوں گی WhatsAppFacebookTwitter 0 14 January, 2026 سب نیوز
واشنگٹن (شاہ خالد خان ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی تجارتی ٹیرف کے معاملے پر سپریم کورٹ کو شدید انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر عدالت نے ان کے عائد کردہ محصولات کو کالعدم قرار دیا تو امریکا کو سیکڑوں ارب ڈالر کی ادائیگیاں واپس کرنا پڑیں گی، جو کہ ملک کی معیشت کے لیے ایک سنگین بحران کا باعث بن سکتی ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بیان سوشل میڈیا پر ایک طویل پوسٹ میں دیا، جہاں انہوں نے اس صورت حال کو “مکمل افراتفری” قرار دیا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ اگر ٹیرف کے خلاف آیا تو یہ نہ صرف قومی سلامتی سے جڑے معاملات کو متاثر کرے گا بلکہ امریکا کو شدید مالی بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ “اگر فیصلہ ہمارے خلاف آیا تو ہم بری طرح پھنس جائیں گے۔ ادائیگیاں تقریباً ناممکن ہو جائیں گی، اور اتنی بڑی رقم کا حساب کتاب کرنے میں بھی برسوں لگ سکتے ہیں۔ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ یہ مسئلہ آسانی سے حل ہو جائے گا، وہ شدید غلط فہمی کا شکار ہے۔”
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سپریم کورٹ کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ کے وسیع عالمی ٹیرف نظام کی قانونی حیثیت پر فیصلہ متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق، یہ فیصلہ آج بدھ کے روز سنایا جا سکتا ہے۔ یہ کیس ٹرمپ کی متنازع معاشی پالیسیوں اور صدارتی اختیارات کے حوالے سے ایک اہم قانونی امتحان سمجھا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال اپریل میں اعلان کیے گئے ان ٹیرف نے امریکا میں درآمد ہونے والی اشیا پر اضافی محصولات عائد کیے تھے، جن کا مقصد ملکی صنعتوں کو تحفظ فراہم کرنا اور تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا۔ تاہم، یہ اقدامات چھوٹے کاروباری اداروں اور امریکا کی 12 ریاستوں کی جانب سے چیلنج کیے گئے ہیں۔ مدعیوں کا موقف ہے کہ صدر ٹرمپ نے ان محصولات کو عائد کر کے اپنے آئینی اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔
سپریم کورٹ نے نومبر میں اس کیس کی سماعت کے دوران ٹرمپ انتظامیہ کی قانونی بنیاد پر شدید شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا۔ ججوں نے صدر کے ٹیرف عائد کرنے کے اختیار پر متعدد سوالات اٹھائے، خاص طور پر یہ کہ آیا یہ اقدامات قومی سلامتی کی بنیاد پر جائز ہیں یا نہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ ٹیرف امریکا کی اقتصادی اور قومی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہیں، جبکہ مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی تجارت کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں مزید تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ فیصلے کے بعد ٹیرف کو واپس لینا انتہائی پیچیدہ ہو جائے گا، کیونکہ متاثرہ کاروباری ادارے اور ممالک رقوم کی واپسی (ریفنڈ) کے دعوے پیش کر سکتے ہیں۔ ان کے بقول، “یہ جاننے میں کئی سال لگ جائیں گے کہ ہم کس رقم کی بات کر رہے ہیں، اور حتیٰ کہ یہ بھی کہ کس کو، کب اور کہاں ادائیگی کرنی ہے۔ یہ ایک ایسا بحران ہو گا جو امریکا کی معاشی استحکام کو جڑ سے ہلا دے گا۔”
ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اگر سپریم کورٹ نے ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیا تو اس کے اثرات عالمی تجارت پر بھی پڑیں گے۔ امریکا کے تجارتی شراکت دار، خاص طور پر چین، یورپی یونین اور کینیڈا، جو ان ٹیرف سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، ممکنہ طور پر ادائیگیوں کے دعوے کر سکتے ہیں۔ اندازوں کے مطابق، ان ٹیرف سے حاصل ہونے والی آمدنی سیکڑوں ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے، اور ان کی واپسی امریکا کے بجٹ پر شدید دباؤ ڈال سکتی ہے۔
ٹرمپ کی اس پوسٹ نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ ریپبلکن پارٹی کے کچھ ارکان نے صدر کے موقف کی حمایت کی ہے، جبکہ ڈیموکریٹس نے اسے عدالت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ ایک ڈیموکریٹک سینیٹر نے کہا کہ “صدر ٹرمپ کا یہ بیان عدلیہ کی آزادی پر حملہ ہے، جو جمہوریت کے لیے خطرناک ہے۔”
یہ کیس امریکا کی تاریخ میں صدارتی اختیارات اور تجارتی پالیسیوں کے حوالے سے ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر فیصلہ ٹرمپ کے حق میں آیا تو یہ ان کی معاشی حکمت عملی کو مزید تقویت دے گا، جبکہ خلاف آنے کی صورت میں یہ ان کی انتظامیہ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہو گا۔ دنیا بھر کی نظریں اب سپریم کورٹ کے فیصلے پر مرکوز ہیں، جو آج کسی بھی وقت سنایا جا سکتا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجنگ کے دوران پاکستان کے پاس تمام معلومات تھیں کہ ہمارا کون سا جہاز، طیارہ اور یونٹ کہاں ہے‘؟ بھارتی آرمی چیف کا اعتراف جنگ کے دوران پاکستان کے پاس تمام معلومات تھیں کہ ہمارا کون سا جہاز، طیارہ اور یونٹ کہاں ہے‘؟ بھارتی آرمی چیف کا اعتراف نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کی مینمار کے وزیر خارجہ، ایچ ای یو تھان سوی سے گفتگو پاکستانی مسافروں کیلئے بڑی خبر، یو اے ای پہنچنے پر طویل امیگریشن کارروائی سے چھٹکارا پاکستان اورمراکش کے درمیان دفاعی تعاون کی مفاہمتی یادداشت پردستخط کر دیئے گئے ای سی سی نے دفاعی شعبے کیلئے 5 ارب روپے سے زائد کے ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹس کی منظوری دیدی ٹی ایل پی سربراہ سعد رضوی اور ان کے بھائی کی گمشدگی کا معما برقرارCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: خلاف آیا تو سپریم کورٹ ٹرمپ کا ٹیرف کے
پڑھیں:
پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
پاکستان کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا۔
ویسٹ انڈیز کی قیادت روسٹن چیز کریں گے جبکہ جومیل واریکن کو نائب کپتان مقرر کیا گیا ہے۔
اسکواڈ میں جوشوا بیشپ، تیج نارائن چندرپال، جوشوا ڈی سلوا، جسٹن گریوز، کیوم بوج، شے ہوپ، عامر جینگو، شیمار جوزف، برینڈن کنگ، کرک میک کینزی، گڈاکیش موتی، کیمو پال، کیمار روچ، جیڈن سیلز اور جومیل واریکن شامل ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا آغاز 25 جولائی سے ہوگا۔
View this post on Instagramقومی ٹیم نے آخری مرتبہ 2023 میں سری لنکا کو اس کی سرزمین پر 2-0 سے ٹیسٹ سیریز میں شکست دی تھی، تاہم اس کے بعد پاکستان مسلسل سات بیرونِ ملک ٹیسٹ میچ ہار چکا ہے۔
اس سیریز میں پاکستان کی قیادت دوبارہ بابر اعظم کر رہے ہیں جنہیں شان مسعود کی جگہ ٹیسٹ ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا ہے۔