امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کے بغیر کچھ بھی قابلِ قبول نہیں ہوگا، کیونکہ یہ خطہ امریکا کی قومی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہے اور اس سے نیٹو کی طاقت بھی مضبوط ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گرین لینڈ تنازع: ٹرمپ کے ارادوں پر ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا چاہتے ہیں، ڈنمارک

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ گرین لینڈ اگر امریکا کے پاس نہیں آیا تو ناقابلِ قبول ہے، نیٹو اس وقت زیادہ مؤثر اور مضبوط ہوگا جب گرین لینڈ امریکا کے کنٹرول میں ہوگا۔

صدر ٹرمپ کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب نائب صدر جے ڈی وینس وائٹ ہاؤس میں ڈنمارک کے وزیر خارجہ اور گرین لینڈ کے ہم منصب کے ساتھ ملاقات کر رہے ہیں، جس میں سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو بھی شریک ہیں۔

ٹرمپ نے اس کے علاوہ کہا کہ گرین لینڈ کے حصول سے پینٹاگون کے میزائل دفاعی نظام کے لیے ضروری گولڈن ڈوم کا منصوبہ مضبوط ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیٹو کے رہنماوں کو چاہیے کہ وہ امریکا کے لیے گرین لینڈ حاصل کرنے کی کوشش کریں، کیونکہ اگر امریکا نے یہ قدم نہ اٹھایا تو روس یا چین اسے حاصل کر سکتے ہیں۔

ٹرمپ نے گرین لینڈ کے وزیرِ اعلیٰ ینگز-فریڈرک نیلسن کے حالیہ بیان کو بھی مسترد کیا، جنہوں نے کہا تھا کہ گرین لینڈ امریکا کا حصہ نہیں بننا چاہتا اور نہ ہی اس کا کوئی ارادہ ہے۔ ٹرمپ نے جواب دیا کہ یہ ان کا مسئلہ ہے، میں اس سے متفق نہیں ہوں۔

گرین لینڈ کا جغرافیائی محل وقوع، قدرتی وسائل جیسے تیل، گیس اور نایاب معدنیات، اور شمالی بحری راستے اسے اسٹریٹجک طور پر اہم بناتے ہیں۔ حالانکہ ٹرمپ نے اس کے قدرتی وسائل کو کم اہم قرار دیا، لیکن سابقہ قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز کے مطابق، امریکی انتظامیہ کے لیے یہ علاقہ اہم معدنیات اور قدرتی وسائل کی وجہ سے بھی اہم ہے۔

اسی دوران گرین لینڈ اور ڈنمارک نے سکیورٹی کی تناؤ کے باعث خطے میں فوجی موجودگی بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ ڈنمارک نے کہا کہ شمالی اٹلانٹک اور آرکٹک میں اضافی فوجی موجودگی کے تحت ہوائی جہاز، جہاز اور فوجی یونٹس بھیجے جائیں گے، جن میں نیٹو کے اتحادی بھی شامل ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: فرانس کا گرین لینڈ میں قونصل خانہ کھولنے کا اعلان، کیا یہ امریکا کے لیے کوئی ’خاموش پیغام‘ ہے؟

یورپی رہنما ٹرمپ کی گرین لینڈ پر قبضے کی تجویز سے سخت ناراض ہیں۔ فرانسیسی صدر امانوئیل میکرون نے کہا کہ گرین لینڈ پر امریکی قبضے کے اثرات بے مثال ہوں گے اور فرانس ڈنمارک کی خودمختاری کے ساتھ مکمل ہم آہنگی میں کارروائی کرے گا۔ یورپی کمیشن کی سربراہ ارسولا وان ڈیر لین نے کہا کہ گرین لینڈ کے فیصلے کا حق اس کے عوام اور ڈنمارک کو ہے۔

ٹرمپ نے ہفتے کے آخر میں کہا کہ چاہے معاہدہ ہو یا نہ ہو، امریکا گرین لینڈ حاصل کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر اس سے نیٹو پر اثر پڑا تو نیٹو پر اثر پڑے گا، اور کوئی بات نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی قبضہ کسی صورت برداشت نہیں کریں گے، گرین لینڈ کا دوٹوک مؤقف

صدر نے یہ بھی کہا کہ امریکا فوری طور پر گرین لینڈ میں فوجی بھیج سکتا ہے، لیکن ملکیت اور مکمل کنٹرول کے بغیر یہ کافی نہیں ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news امریکا ڈنمارک ڈونلڈ ٹرمپ قبضہ گرین لینڈ یورپین یونین.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ یورپین یونین گرین لینڈ کے کہ گرین لینڈ گرین لینڈ پر امریکا کے کہا کہ نے کہا یہ بھی کے لیے

پڑھیں:

امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز

امریکی سفارت خانے نے امریکا کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کی تقریبات کے سلسلے میں جمعرات کو اسلام آباد میں ’لیٹ فریڈم رنگ‘ کے عنوان سے ’لبرٹی بیل‘ نمائش کا افتتاح کر دیا۔

نمائش میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے 16 پاکستانی فنکاروں کے تیار کردہ منفرد فن پارے پیش کیے گئے ہیں، جن میں ہر فنکار نے اپنے انداز میں ‘آزادی’ کے تصور کو اجاگر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:گورنر خیبرپختونخوا سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون بڑھانے پر اتفاق

نمائش کا افتتاح لوک ورثہ میوزیم میں منعقدہ تقریب میں امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس اور وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے مشترکہ طور پر کیا۔

پاکستانی فنکاروں نے ‘آزادی’ کی نئی تعبیر پیش کی

امریکی سفارت خانے کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان میں امریکی مشن کے پبلک ڈپلومیسی سیکشن نے اپنے ‘لنکن کارنرز’ نیٹ ورک کے ذریعے ترتیب دیا، جس میں ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے 16 فنکاروں کو شریک کیا گیا۔

Federal Minister for NH&C Aurangzeb Khan Khichi and U.S. Chargé d’Affaires Andy Halus on Thursday jointly inaugurated the “Let Freedom Ring” American Liberty Bell display at Lok Virsa Heritage Museum, celebrating the enduring cultural partnership between Pakistan & United States pic.twitter.com/3uqKCelXK9

— National Heritage and Culture Division (@DivisionCulture) July 23, 2026

ہر فنکار سے ایک ہی سوال پوچھا گیا کہ ’میرے لیے آزادی کیا معنی رکھتی ہے؟ ’اس سوال کے جواب میں فنکاروں نے ’لبرٹی بیل‘ کے منفرد ڈیزائن تخلیق کیے، جو پاکستانی نقطۂ نظر سے آزادی کے تصور کی عکاسی کرتے ہیں۔

نمائش 5 روز تک جاری رہے گی

‘لیٹ فریڈم رنگ’ نمائش 23 سے 27 جولائی تک اسلام آباد کے 2 نمایاں ثقافتی مراکز، لوک ورثہ میوزیم اور پاکستان مونومنٹ میوزیم میں جاری رہے گی۔

امریکی سفارت خانے نے شہریوں کو دعوت دی ہے کہ وہ اس 5 روزہ نمائش کے دوران دونوں مقامات کا دورہ کریں اور فن پاروں کا مشاہدہ کریں۔

امریکا اور پاکستان کے مشترکہ اقدار پر زور

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس نے کہا کہ ‘لبرٹی بیل’ آزادی، اظہارِ رائے اور بہتر مستقبل کی امید کی علامت ہے۔

أعلنت السفارة الأمريكية في إسلام آباد عن افتتاح معرض ليت فريدوم رينغ في متحف لوك ورثه ومتحف النصب التذكاري الباكستاني، وذلك ضمن الاحتفالات العالمية بمرور ٢٥٠ عامًا على إعلان الاستقلال الأمريكي.

شارك في الافتتاح القائم بالأعمال الأمريكي آندي هيلز ووزير التراث الوطني والثقافة… pic.twitter.com/EcPOSXchyu

— WE News | بالعربية (@WENewsArabic) July 23, 2026

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا دونوں معاشروں میں فن، تخلیقی اظہار اور بہتر دنیا کے تصور کو اہمیت دی جاتی ہے۔

لوک ورثہ کئی دہائیوں سے پاکستان کی ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اس تاریخی مقام پر امریکا کی آزادی کی داستان کو بھی پیش کرنا باعثِ فخر ہے۔

ثقافتی تبادلوں سے تعلقات مضبوط بنانے پر زور

وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تبادلے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں:نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے قائم مقام امریکی ناظم الامور کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

انہوں نے اس نمائش کو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات اور باہمی تعاون کی ایک مثبت مثال قرار دیا۔

امریکا 2026 میں اپنے اعلانِ آزادی کی 250 ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ اسی مناسبت سے دنیا بھر میں امریکی سفارت خانے اور سفارتی مشنز کے زیرِ اہتمام ‘فریڈم 250’ کے عنوان سے مختلف تقریبات، نمائشوں اور ثقافتی پروگراموں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

اسلام آباد میں منعقد کی جانے والی ‘لیٹ فریڈم رنگ’ مہم بھی اسی عالمی پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد آزادی، اختراع، تخلیقی اظہار اور ثقافتی روابط کو فروغ دینا ہے۔

اس نمائش کے ذریعے پاکستانی فنکاروں کو اپنے فن کے ذریعے آزادی کے تصور کو پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا، جسے پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تعاون کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آزادی افتتاح لوک ورثہ میوزیم امریکا امریکی سفارتخانہ امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس پاکستان ثقافتی تبادلہ فنکاروں لبرٹی بیل لیٹ فریڈم رنگ مونومنٹ میوزم

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم