ایران کشیدگی: پاکستانی شہریوں کی سہولت کے لیے کوآرڈینیشن و مانیٹرنگ سیل قائم
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
ایران میں موجود پاکستانی شہریوں اور طلبہ کی سہولت کے لیے وزارت خارجہ میں کوآرڈینیشن اور مانیٹرنگ سیل قائم کردیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کی وارننگ کے باوجود ایران میں مظاہرین کے خلاف مقدمات کی سماعت تیز
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق یہ سیل ایران کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے پاکستانی شہریوں کی معاونت اور رابطے کے لیے کام کر رہا ہے۔
دوسری جانب ایران میں تعینات پاکستانی سفیر مدثر ٹیپو نے بتایا کہ ایران میں موبائل اور لینڈ لائن فونز کے ذریعے بین الاقوامی کالز کی سہولت بحال کردی گئی ہے۔
مدثر ٹیپو کے مطابق بین الاقوامی کالز کی بحالی کے بعد ایران میں موجود پاکستانی شہری اپنے اہلخانہ اور عزیز و اقارب سے رابطہ کر سکیں گے، اور یہ پیشرفت ان کے لیے نہایت اہم اور مفید ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کے عوام احتجاج جاری رکھیں اور اداروں پر قبضہ کرلیں، مدد پہنچنے والی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
واضح رہے کہ ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں کے باعث صورت حال انتہائی کشیدہ ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو کارروائی کی دھمکی بھی دی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews ایران کشیدگی پاکستانی شہری کوارڈینیشن سیل قائم وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایران کشیدگی پاکستانی شہری کوارڈینیشن سیل قائم وی نیوز ایران میں کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔