ڈونلڈ ٹرمپ کی وارننگ کے باوجود ایران میں مظاہرین کے خلاف مقدمات کی سماعت تیز
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ حالیہ احتجاجی مظاہروں میں گرفتار افراد کے خلاف تیز رفتار مقدمات چلائے جائیں گے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران مظاہرین کو پھانسی دیتا ہے تو امریکا بہت سخت کارروائی کرے گا۔
بین الاقوامی حقوق انسانی کی تنظیموں کے مطابق ایران میں احتجاجی مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جنہیں ملکی قیادت کے لیے سب سے بڑا چیلنج قرار دیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو دھمکی پر روس کا سخت ردعمل سامنے آگیا
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے ملک میں کنٹرول بحال کر لیا ہے اور مظاہرین کو دہشت گردی میں ملوث قرار دیا ہے۔
بدھ کے روز عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی نے تہران کے ایک قید خانے کا دورہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی نے قتل، سنگسار یا آگ لگانے جیسے جرائم کیے تو مقدمات جلد نمٹائے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ مقدمات عوامی طور پر بھی چلائے جائیں گے اور انہوں نے پانچ گھنٹے قیدخانہ میں گزارے تاکہ کیسز کا جائزہ لیا جاسکے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر ایران مظاہرین کو پھانسی دیتا ہے تو امریکا سخت اقدامات کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے عوام احتجاج جاری رکھیں اور اداروں پر قبضہ کرلیں، مدد پہنچنے والی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
انہوں نے ایرانی عوام سے مظاہروں جاری رکھنے کی اپیل کی اور کہا کہ جب تک مظاہرین کی بے معنی قتل و غارت رک نہیں جاتی، وہ ایرانی حکام کے ساتھ ملاقاتیں منسوخ کرچکے ہیں
ڈونلڈ ٹرمپ نے احتجاج کرنے والے 26 سالہ عرفان سلطانی کو سزائے موت سنائی گئی، اور اب تک 10 ہزار 600 سے زائد افراد گرفتار ہو چکے ہیں۔
ایران نے امریکی وارننگ کو فوجی مداخلت کے لیے بہانہ قرار دیا اور کہا کہ واشنگٹن کا پلے بک ناکام ہوجائے گا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ایران میں انٹرنیٹ سروس بند ہونے کی وجہ سے مظاہروں کی اصل شدت چھپائی گئی، ایران ہیومن رائٹس کے مطابق 734 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں 9 نابالغ شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے بعد آج پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہیں، ایرانی آرمی چیف
ایران میں حکومت نے مظاہرین کے خلاف کارروائی کے دوران اپنے فوجی اور سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں کے بعد بڑے پیمانے پر سرکاری ریلیاں منعقد کی ہیں۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ان ریلیوں کو احتجاجی تحریک کے شکست کی علامت قرار دیا اور امریکا کے لیے ایک وارننگ قرار دیا۔
بین الاقوامی ردعمل میں یورپی ممالک نے ایران کے سفیروں کو طلب کیا اور مزید پابندیوں کا عندیہ دیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ احتجاجی تحریک ایران کی روحانی قیادت کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج ہے، مگر فوری طور پر نظام کے خاتمے کی پیش گوئی قبل از وقت ہے، کیونکہ انقلاب کے محافظ کور اور دیگر ادارے ابھی بھی سخت کنٹرول رکھتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news احتجاج امریکا ایران ڈونلڈ ٹرمپ مظاہرین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ایران ڈونلڈ ٹرمپ مظاہرین ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں انہوں نے قرار دیا کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ