ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ حالیہ احتجاجی مظاہروں میں گرفتار افراد کے خلاف تیز رفتار مقدمات چلائے جائیں گے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران مظاہرین کو پھانسی دیتا ہے تو امریکا بہت سخت کارروائی کرے گا۔

بین الاقوامی حقوق انسانی کی تنظیموں کے مطابق ایران میں احتجاجی مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جنہیں ملکی قیادت کے لیے سب سے بڑا چیلنج قرار دیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو دھمکی پر روس کا سخت ردعمل سامنے آگیا

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے ملک میں کنٹرول بحال کر لیا ہے اور مظاہرین کو دہشت گردی میں ملوث قرار دیا ہے۔

بدھ کے روز عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی نے تہران کے ایک قید خانے کا دورہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی نے قتل، سنگسار یا آگ لگانے جیسے جرائم کیے تو مقدمات جلد نمٹائے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ مقدمات عوامی طور پر بھی چلائے جائیں گے اور انہوں نے پانچ گھنٹے قیدخانہ میں گزارے تاکہ کیسز کا جائزہ لیا جاسکے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر ایران مظاہرین کو پھانسی دیتا ہے تو امریکا سخت اقدامات کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کے عوام احتجاج جاری رکھیں اور اداروں پر قبضہ کرلیں، مدد پہنچنے والی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

انہوں نے ایرانی عوام سے مظاہروں جاری رکھنے کی اپیل کی اور کہا کہ جب تک مظاہرین کی بے معنی قتل و غارت رک نہیں جاتی، وہ ایرانی حکام کے ساتھ ملاقاتیں منسوخ کرچکے ہیں

ڈونلڈ ٹرمپ نے احتجاج کرنے والے 26 سالہ عرفان سلطانی کو سزائے موت سنائی گئی، اور اب تک 10 ہزار 600 سے زائد افراد گرفتار ہو چکے ہیں۔

ایران نے امریکی وارننگ کو فوجی مداخلت کے لیے بہانہ قرار دیا اور کہا کہ واشنگٹن کا پلے بک ناکام ہوجائے گا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ایران میں انٹرنیٹ سروس بند ہونے کی وجہ سے مظاہروں کی اصل شدت چھپائی گئی، ایران ہیومن رائٹس کے مطابق 734 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں 9 نابالغ شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے بعد آج پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہیں، ایرانی آرمی چیف

ایران میں حکومت نے مظاہرین کے خلاف کارروائی کے دوران اپنے فوجی اور سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں کے بعد بڑے پیمانے پر سرکاری ریلیاں منعقد کی ہیں۔

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ان ریلیوں کو احتجاجی تحریک کے شکست کی علامت قرار دیا اور امریکا کے لیے ایک وارننگ قرار دیا۔

بین الاقوامی ردعمل میں یورپی ممالک نے ایران کے سفیروں کو طلب کیا اور مزید پابندیوں کا عندیہ دیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ احتجاجی تحریک ایران کی روحانی قیادت کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج ہے، مگر فوری طور پر نظام کے خاتمے کی پیش گوئی قبل از وقت ہے، کیونکہ انقلاب کے محافظ کور اور دیگر ادارے ابھی بھی سخت کنٹرول رکھتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news احتجاج امریکا ایران ڈونلڈ ٹرمپ مظاہرین.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا ایران ڈونلڈ ٹرمپ مظاہرین ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں انہوں نے قرار دیا کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی