data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

جدید طرزِ زندگی میں دفتر ہو یا گھر، طویل وقت تک ایک ہی جگہ کرسی پر بیٹھ کر کام کرنا معمول بنتا جا رہا ہے، تاہم ماہرینِ صحت خبردار کرتے ہیں کہ بظاہر بے ضرر نظر آنے والی یہ عادت وقت گزرنے کے ساتھ جسم کو سنگین طبی مسائل کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند رہنے کے لیے محض روزانہ جم جانا یا مخصوص وقت پر ورزش کر لینا کافی نہیں، بلکہ پورے دن کے دوران جسم کو متحرک رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ مسلسل بیٹھے رہنے سے نہ صرف جسمانی سرگرمی محدود ہو جاتی ہے بلکہ اندرونی نظام بھی متاثر ہونے لگتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایک ہی جگہ دیر تک بیٹھنے سے پٹھے کمزور پڑنے لگتے ہیں، خون کی روانی سست ہو جاتی ہے اور ہڈیوں پر غیر ضروری دباؤ بڑھ جاتا ہے، جو رفتہ رفتہ مختلف دائمی بیماریوں کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ خاص طور پر ریڑھ کی ہڈی پر اس کے منفی اثرات نمایاں ہوتے ہیں، جبکہ جسم کا میٹابولزم بھی سست پڑنے لگتا ہے، جس کے نتیجے میں وزن بڑھنے اور ہر وقت تھکن محسوس ہونے جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔

طبی ماہرین اس مسئلے سے بچاؤ کے لیے ایک سادہ مگر مؤثر حل تجویز کرتے ہیں، جسے ’30 منٹ کا اصول‘ کہا جاتا ہے۔ اس اصول کے تحت ہر آدھے گھنٹے بعد کرسی سے اٹھنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ عام دفتری اوقات میں کم از کم 8 سے 10 مرتبہ کھڑا ہونا، چند قدم چلنا یا ہلکی پھلکی اسٹریچنگ کرنا صحت کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ صرف دو منٹ کی ہلکی واک یا جسم کو اسٹریچ کرنے سے خون کی روانی بہتر ہو جاتی ہے، پٹھوں کی اکڑن میں کمی آتی ہے اور کمر، کندھوں اور ٹانگوں کے درد میں واضح فرق محسوس کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس، طویل وقت تک مسلسل بیٹھے رہنے سے جسم کی توانائی استعمال کرنے کی صلاحیت متاثر ہونے لگتی ہے، جس کے نتیجے میں وزن میں اضافہ، کمر اور گھٹنوں کا درد، جسمانی ساخت میں بگاڑ، بلڈ شوگر میں اتار چڑھاؤ اور کولیسٹرول کی سطح میں اضافہ جیسے مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ عادت دل کے امراض اور ذیابیطس جیسے خطرناک امراض کے امکانات بھی بڑھا دیتی ہے، اسی لیے روزمرہ زندگی میں حرکت کو لازمی جزو بنانا نہایت اہم ہے، ہر بار کرسی سے اٹھنے پر سخت ورزش کرنا ضروری نہیں، بلکہ ہلکی اسٹریچنگ، چند قدم چلنا، پانی پینا یا واش روم تک جانا جیسی سادہ سرگرمیاں بھی جسم کو دوبارہ متحرک کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق ایسی مختصر سرگرمیاں جسم کو یہ پیغام دیتی ہیں کہ وہ آرام کی حالت سے نکل کر دوبارہ فعال ہو جائے، جو طویل المدتی صحت کے لیے نہایت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ اگر روزمرہ معمول میں وقفے وقفے سے بیٹھنے کی عادت اپنا لی جائے تو اس کے مثبت اثرات جلد نمایاں ہونے لگتے ہیں۔

وقفے لے کر اٹھنے اور ہلکی حرکت کرنے سے پیٹھ اور گردن پر پڑنے والا دباؤ کم ہو جاتا ہے، جس سے درد اور اکڑن میں نمایاں کمی آتی ہے۔ اسی طرح میٹابولزم متحرک رہنے کے باعث وزن بڑھنے کا خطرہ گھٹ جاتا ہے، خون میں شوگر کی سطح زیادہ مستحکم رہتی ہے اور کولیسٹرول بہتر کنٹرول میں آتا ہے، جو مجموعی طور پر دل کی صحت کے لیے مفید ہے۔

ماہرین صحت اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اچھی صحت بڑی اور مشکل تبدیلیوں سے نہیں بلکہ چھوٹی چھوٹی مستقل عادتوں سے حاصل ہوتی ہے۔ دن میں بار بار اٹھ کر چلنا، جسم کو حرکت دینا اور اس کی ضروریات کو سمجھنا ایک سادہ مگر مؤثر طریقہ ہے، جو انسان کو زیادہ چست، توانا اور صحت مند زندگی گزارنے میں مدد دے سکتا ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جاتا ہے ہیں کہ جسم کو کے لیے

پڑھیں:

میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا

ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔

سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار

ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ

متعلقہ مضامین

  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان