اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وزیراعظم کی طرف سے برآمدات میں اضافہ کے لیے قائم کی جانے والی کمیٹی نے جو وفاقی وزیر منصوبہ بندی حسن اقبال کی صدارت میں کام کر رہی تھی، ایک ہفتہ تک مسلسل اجلاس منعقد کر کے اپنی ایک رپورٹ تیار کی ہے۔ اس رپورٹ میں برامدات کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے ساتھ ساتھ ان کے انسداد کے لیے اقدامات بھی تجویز کیے ہیں، پلاننگ کمیشن نے ان راو نڈ ٹیبلز میں صنعتکاروں، چیمبرز آف کامرس، ماہرینِ تعلیم اور سرکاری اداروں کو یکجا کیا تاکہ پاکستان کی 20 بلند ترین برآمدی صلاحیت رکھنے والی مصنوعات کے لیے ڈیٹا پر مبنی برآمدی روڈ میپس تیار کیے جا سکیں۔ زیرِ بحث آنے والی مصنوعات میں تانبا، قیمتی پتھر اور زیورات، سافٹ ویئر اور آئی ٹی سروسز، مچھلی اور اس سے تیار شدہ مصنوعات، چاول، پھل اور سبزیاں، گوشت اور گوشت سے بنی مصنوعات، گوار گم، دستکاری، ٹیکسٹائل اور ملبوسات، سپورٹس گڈز، لیدر اور اس کی مصنوعات، سرجیکل آلات، کیمیکلز اور فارماسیوٹیکلز، سیمنٹ، قالین و دری، انجینئرنگ مصنوعات، فٹ ویئر، پلاسٹک مواد اور کٹلری شامل تھیں۔ اس وقت پاکستان کی سالانہ برآمدات تقریباً 30 سے 35 ارب ڈالر کے درمیان ہیں، جبکہ قابلِ اعتماد اندازوں کے مطابق ملک کی غیر استعمال شدہ برآمدی صلاحیت سالانہ تقریباً 60 ارب ڈالر اضافی برآمدات کی گنجائش رکھتی ہے۔ پاکستان 2029ءتک اپنی برآمدات کو دوگنا کرتے ہوئے سالانہ 60 ارب ڈالر سے زائد کرنا چاہتا ہے ، جو رپورٹ تیار کی گئی ہے، اس کے مطابق برامدات میں مسابقت کی صلاحیت بہت کم ہے اس کی وجہ انرجی کی لاگت کا بہت زیادہ ہونا ہے بجلی اور گیس کے ٹیرف بہت زیادہ ہیں اور یہ علاقائی بنچ مارک سے کہیں زیادہ ہے، جس کی وجہ سے مینوفیکچرنگ ایگرو پروسیسنگ منرلز فشری اور سروسز میں منافع بہت کم ہو جاتا ہے۔ رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ کاسٹ آف ڈوئنگ بزنس کو کم کرنے کی ضرورت ہے،رپورٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ ایکسپورٹ ایکو سسٹم متاثر ہو چکا ہے۔ سٹیٹ بنک آف پاکستان سمیڈا ایف بی ار اس بھائی حکام چھوٹے اور درمیانے درجہ کے انٹرپرائزز کی تعریف کی وجہ سے عدم مطابقت موجود ہے اور ایسے اداروں کو فائنانس ترغیبات اور امدادی سکیموں تک رسائی محدود ہو جاتی ہے۔ مقامی طور پر کوالٹی کی ٹیسٹنگ کا نظام بھی کمزور ہے۔ ایکسپورٹ فیسلٹیشن سکیم نے بھی انپٹ کاسٹ کو بڑھا دیا ہے، طریقہ کار کی وجہ سے تاخیر ہوتی ہے اور ورکنگ کیپٹل متاثر ہوتا ہے، لاجسٹک اور ٹریڈ کی صورت میں بھی رکاوٹیں موجود ہیں۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ارب ڈالر کی وجہ

پڑھیں:

عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے

حکومت نے بازار اور دکانیں بند کرنے کے اوقاف کار(business hours) تبدیل کر دئیے ۔دکانوں اور کاروباری مراکز کے بند ہونے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ ۔

اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا نئے اوقات کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رہیں گے۔

ریسٹورنٹس اور کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے ہونگے ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز ان اوقات سے مستثنیٰ ہوں گیشادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک ہی کھلے ہونگے۔

مزید پڑھیں:اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات

فارمیسی، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ادارے مستثنیٰ ہونگے صوبائی حکومتیں وفاق کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں، کمیٹی کی ہدایت

متعلقہ مضامین

  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار