راولپنڈی سے براستہ ایران جارجیہ جانے والے دو طالبعلم پھنس گئے
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
ایران میں کشیدہ حالات کے باعث راولپنڈی سے براستہ ایران جارجیہ جانے والے دو طالبعلم پھنس گئے۔
تفصیلات کے مطابق پھنس جانے والوں میں ایک 22 سالہ طالبعلم شمس طارق ہے جو پانچ بہنوں کا اکلوتا بھائی ہے جبکہ دوسرا 34 سالہ عادل حسین شادی شدہ ہے جو دو بچوں کا باپ ہے۔
دونوں کا تعلق راولپنڈی کے علاقے ٹاہلی موہڑی سے ہے۔ ایران میں انٹرنیٹ بندش کےباعث جارجیہ نہیں جا پار ہے۔
دونوں طالبعلم ایران میں پاکستان ایمبیسی کے باہر 10 دن سے پھنسے ہیں۔ ایران میں پاکستان ایمبیسی انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرے تو جارجیہ جاسکتے ہیں۔
دونوں طابلعموں کے لواحقین شدید کرب میں مبتلا ہیں۔ ایران میں پھنسے طالبعلموں کے ورثاء نے وفاقی حکومت سے مدد کی اپیل کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایران میں
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔