تھائی لینڈ میں 24 گھنٹے کے دوران دوسرا بڑا تعمیراتی حادثہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
تھائی لینڈ میں ایک اور ہولناک تعمیراتی حادثہ پیش آیا ہے، جہاں دارالحکومت بینکاک کے قریب راما 2 روڈ کے ایلیویٹڈ ایکسپریس وے منصوبے پر ایک تعمیراتی کرین گرنے سے کم از کم ایک شخص ہلاک ہو گیا۔ حادثہ جمعرات کی صبح تقریباً 9 بجے ساموت ساکھون صوبے میں پیش آیا۔
حکام کے مطابق کرین گرنے سے دو گاڑیاں ملبے تلے دب گئیں جبکہ ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ اگرچہ سرکاری طور پر ہلاکتوں کی مکمل تصدیق نہیں کی گئی، تاہم فائر اینڈ ریسکیو تھائی لینڈ کے مطابق کم از کم ایک شخص جان سے گیا ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب صرف ایک دن قبل شمال مشرقی صوبے ناکھون راتچاسیما میں ایک کرین گرنے سے مسافر ٹرین تباہ ہوئی تھی، جس میں 32 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حادثے میں سرچ آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے اور حکام کے مطابق ٹرین میں موجود 171 مسافروں میں سے تین افراد کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔
مزید پڑھیںتھائی لینڈ میں خوفناک حادثہ، کرین گرنے سے مسافر ٹرین تباہ، 22 افراد ہلاک
حکام نے بتایا کہ گرنے والی کرین ایک لانچنگ گینٹری کرین تھی، جو عام طور پر بلند سڑکوں کی تعمیر میں استعمال ہوتی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں حادثات کی تحقیقات جاری ہیں اور تاحال کسی کمپنی کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔
راما 2 روڈ ایکسپریس وے منصوبہ ماضی میں بھی متعدد مہلک تعمیراتی حادثات کے باعث تنقید کی زد میں رہا ہے، جس کے بعد عوامی حلقوں میں تعمیراتی منصوبوں کی حفاظت پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: تھائی لینڈ
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک