بلدیہ ٹاون یوسی 3 بنیادی مسائل کا گڑھ بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
بلدیہ ٹاون یوسی 3 بنیادی مسائل کا گڑھ بن گیا ہے۔ قائم خانی کالونی اورنواب کالونی کی گلیاں کھنڈربن گئیں جبکہ جگہ جگہ کھلے مین ہول اور کچرے کے ڈھیر کی وجہ سے مکینوں کا جینا محال ہوگیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ترقیاتی فنڈز ملنے کے باوجود مقامی نمائندے مسائل حل نہیں کررہے ہیں ۔عوامی مسائل حل ہونے میں ناکامی پر یوسی 3 کے کونسلر بھی اپنے ہی ٹاون چیئرمین اور یوسی چئیرمینوں کے خلاف بول پڑے۔
تفصیلات کے مطابق بلدیہ اتحاد ٹاون قائم خانی کالونی کی مرکزی سڑک جو 20 نمبربس اڈا سے شروع ہوکربلدیہ ٹاون کواورنگی ٹاون سے ملاتی ہے وہ مکمل طورپرتباہ ہوچکی ہے۔
ناقص میٹریل سے بنائی گئی سڑک مون سون بارشوں میں بہہ گئی تھی جس کی ازسرنو تعمیر یا مرمت نہ ہوسکی جس کی وجہ سے سڑک پر کئی جگہ پر بڑے بڑے گڑھے بن گئے ہیں۔
یوسی تھری اتحاد ٹاون قائم خانی کالونی کی اندورنی گلیوں کا بھی برا حال ہے۔ کئی برسوں سے گلیوں کو پکا کیا گیا نہ ہی گلیوں میں موجود کچرے گندگی اورغلاظت کے ڈھیر ختم کرکے گلیوں کو ہموار کیا گیا۔ جس سےان گلیوں میں گاڑی خصوصا ایمبولنسس بھی نہیں آسکتی ہیں۔
قائم خانی کالونی کے گلیوں اور محلوں میں جگہ جگہ کھلے مین ہولزہیں جوآئے روز حادثات کا سبب بنتے ہیں۔ کھلے مین ہولز نے گلی میں کھیلتے اوراسکول آتے جاتے بچوں کی زندگیوں کوخطرہ لاحق کردیا ہے۔
اس حوالے سے یوسی 3 کے کونسلر سکندر حیات خان کا کہنا ہے کہ ترقیاتی فنڈز منظور تو ہوتے ہیں لیکن نچلی سطح تک نہیں پہنچ پاتے۔ اس لیے شہریوں کے مسائل حل کرنے سے قاصر ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹاون کی سطح پر ترقیاتی منصوبوں سے متعلق مشاورت میں بھی نہیں شامل کیا جاتا ہے۔ کاغذوں میں ترقیاتی منصوبے موجود ہیں لیکن زمین پر کوئی کام نہیں ہورہا ہے انہوں نے کہا کہ گلیوں اور سڑکوں کی تعمیر اور واٹراینڈ سیوریج کے مسائل کو حل کرنے کے حوالے سے اہل علاقہ مسلسل دباوڈال رہے ہیں لیکن جن کے ہاتھوں میں اختیار ہے ان کے کانوں پرجوں تک نہیں رینگتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: قائم خانی کالونی
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔