کسٹمز نے سرکاری بینک ایکسچینج ریٹس کے مطابق شپنگ چارجز نافذ کردیے
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
ایف بی آر کے ادارے پاکستان کسٹمز نے تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے جہاز رانی کی صنعت کے لیے سرکاری بینک ایکس چینج ریٹس کے مطابق شپنگ چارجز نافذ کردیئے۔
ایف بی آر کے مطابق جہاز رانی کی صنعت کے لئے سرکاری بینک کی شرح مبادلہ کے مطابق نافذ کردہ شپنگ چارجز کے نتیجے میں بین الاقوامی شپنگ لائنزکی جانب سے من مانی اور حد سے زیادہ بلنگ کی پریکٹس کا خاتمہ ہو گیا ہے۔
آل پاکستان شپنگ ایسوسی ایشن نے 12 جنوری 2026ء کو تحریری طور پر باضابطہ تصدیق کی ہے کہ اس کی تمام اراکین شپنگ لائنز اب اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ضوابط کے مطابق اپنے متعلقہ مجاز کمرشل بینکوں کی جانب سے فراہم کردہ شرح مبادلہ کی بنیاد پر ہی شپنگ فیس وصول کررہی ہیں۔
یہ پیش رفت پاکستان کسٹمز کی جانب سے قائم کردہ ایک اعلیٰ سطح کمیٹی کی مسلسل کاوشوں کا نتیجہ ہے جس نے شپنگ ایجنٹس، ٹرمینل آپریٹرز، تجارتی تنظیموں اور بین الاقوامی شپنگ لائنز کے ساتھ تفصیلی مشاورت کی۔
پاکستان میں کام کرنے والی سب سے بڑی شپنگ لائن مرسک جوکہ ملک کا تقریباً 26 فیصد مجموعی کارگو ہینڈل کرتی ہے، اس نے پہلے ہی سرکاری بینک کی شرح مبادلہ کا اطلاق شروع کر دیا ہے جس سے جہاز رانی کی پوری صنعت کے لیے ایک معیار قائم ہوا ہے۔
بڑی بین الاقوامی شپنگ لائنز اور ان کے مقامی ایجنٹس سمیت دیگر کمپنیوں کی جانب سے تحریری طور پر کمپلائنس کی تصدیق موصول ہوچکی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ جہاز رانی کی پوری صنعت میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی شرح مبادلہ پر مکمل عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔
گزشتہ کئی برس سے تاجر اور برآمد کنندگان شپنگ لائنز کی جانب سے ڈالر کے مبالغہ آمیز اور من مانی شرح مبادلہ کے اطلاق پر شدید تحفظات کا اظہار کر رہے تھے جو اکثر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے اعلان کردہ شرح مبادلہ سے کہیں زیادہ ہوتے تھے، اس سے کاروباری لاگت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا،برآمدات میں کاروباری مسابقت متاثر ہوئی اور شپنگ چارجزکے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی۔
توقع ہے کہ اس اقدام سے تاجروں اور برآمد کنندگان پر لاگت کے دباؤ میں خاطر خواہ کمی آئے گی، شپنگ چارجز میں شفافیت ہوگی اور کاروباری برادری کا اعتماد بحال ہوگا۔
یہ کامیابی ایف بی آر کے اس پختہ عزم کی عکاس ہے کہ وہ قانونی تجارت کے تحفظ، کاروبار کرنے میں آسانیاں لانے کے لیے سرگرم عمل ہے اور مؤثر قانونی نگرانی اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ رابطے کے ذریعے پاکستان کی برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کے لئے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جہاز رانی کی سرکاری بینک شرح مبادلہ شپنگ چارجز شپنگ لائنز کی جانب سے کے مطابق
پڑھیں:
پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں، جس کے بعد مجموعی رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے مطابق مئی کے دوران ملک بھر میں 3 ہزار 161 نئی کمپنیاں رجسٹر کی گئیں، جس کے بعد رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 2 لاکھ 97 ہزار 239 ہو گئی ہے۔ ایس ای سی پی کے اعداد و شمار کے مطابق نئی رجسٹر ہونے والی کمپنیوں میں سے 99.9 فیصد کی رجسٹریشن آن لائن طریقہ کار کے ذریعے مکمل کی گئی، جو کاروباری سرگرمیوں میں ڈیجیٹل سہولتوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کی عکاسی کرتی ہے۔ صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔
شعبہ وار جائزے کے مطابق سب سے زیادہ کمپنیاں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای کامرس کے شعبے میں رجسٹر کی گئیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں 598 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ ٹریڈنگ سیکٹر میں 503، سروسز کے شعبے میں 404 اور رئیل اسٹیٹ و کنسٹرکشن کے شعبے میں 303 نئی کمپنیاں قائم کی گئیں۔ایس ای سی پی کے مطابق سیاحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی نمایاں سرگرمی دیکھنے میں آئی، جہاں 206 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن عمل میں لائی گئی۔ ادارے نے بتایا کہ مئی کے دوران 17 مختلف ممالک کے سرمایہ کاروں نے پاکستان میں کمپنیاں رجسٹر کروائیں۔ اعداد و شمار کے مطابق چین سے تعلق رکھنے والے 89 شیئر ہولڈرز نے مختلف کمپنیوں میں ڈائریکٹر شپ حاصل کی جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی کمپنیوں کا ادا شدہ سرمایہ 139.4 ملین روپے ریکارڈ کیا گیا۔