ای چالان سے متعلق بڑی خوش خبری آ گئی!
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: شہر قائد کے باسی بھاری بھرکم ای چالان کی وجہ سے سخت پریشان ہیں تاہم اب ان کی پریشانی ختم ہونے والی ہے۔
کراچی میں گزشتہ برس ای چالان کا سلسلہ شروع کیا گیا اور قانون کی خلاف ورزی پر گاڑی مالکان کو بھاری مالیت کے چالان بھیجے جانے لگے۔
کراچی کے موٹر سائیکل سوار اور کار مالکان ان بھاری مالیت کے چالانوں کی وجہ سے سخت پریشانی کا شکار ہوئے اور کئی بار جیبوں پر بھاری پڑنے والے ان جرمانوں کی رقم میں کمی کا مطالبہ کیا گیا۔
گجرات میں ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ کرپشن، پرویز الٰہی پر فرد جرم عائد
تاہم اب لگتا ہے کہ ان کا مطالبہ پورا ہونے والا ہے اور کراچی میں کاروں، موٹر سائیکلوں کے ای چالان جرمانے کی شرح میں 50 فیصد تک کمی ہو سکتی ہے۔
ٹریفک جرمانوں میں عوامی تشویش کے بعد سندھ حکومت کراچی میں کار اور موٹر سائیکل کے ای-چالان کے جرمانے کم کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اور ٹریفک جرمانوں کی شرح کو روک کر کم کرنے کی تجویز کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ سندھ حکومت موٹر سائیکلوں کے جرمانے کو 5,000 روپے سے کم کرکے 2,500 روپے کرنے پر غور کر رہی ہے، جبکہ 1,000 سی سی سے کم گاڑیوں کے ای چالان کے جرمانوں میں بھی اسی تناسب سے کمی دیکھی جا سکتی ہے۔
اسناد اور ڈگریوں کے اجرا کا نظام ڈیجیٹلائز
اس معاملے پر حتمی فیصلہ آئندہ ہفتے وزیر داخلہ سندھ کی زیر صدارت خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں کیا جائے گا۔ کمیٹی کی منظوری کے بعد نئے جرمانوں کا نوٹیفکیشن بھی جلد ہی جاری ہونے کی امید ہے۔
گزشتہ سال سندھ حکومت نے موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 کے سیکشن 121-A کے تحت بارہویں شیڈول میں ترمیم کرکے صوبے بھر میں ٹریفک کی خلاف ورزیوں پر جرمانے اور ڈی میرٹ پوائنٹس کا نیا ڈھانچہ نافذ کیا تھا۔
اس وقت سندھ کے سینئر وزیر برائے اطلاعات اور ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کا مقصد ڈرائیونگ کے خطرناک رویوں کو روکنا اور سڑک پر انسانی جانوں کی حفاظت کو بہتر بنانا ہے۔
نیوز نائٹ، 14 جنوری 2026
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔
منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔
بی جے پی حکومت پر سنگین الزاماتمنگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔
میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائیسابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔
امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواستممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘ نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔
ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔
دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
مجھے سب کچھ معلوم ہےاپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔
نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔
مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار