محسن نقوی کی کوئٹہ آمد، شہید انور کاکڑ کے اہلخانہ سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
اپنے دورے کے موقع پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے میجر انور کاکڑ کی والدہ، بھائی اور بیٹوں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انکے بچوں کا کالج میں داخلہ اور بھائی کیلئے سرکاری نوکری کا اعلان کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کوئٹہ میں شہید میجر انور کاکڑ کی رہائش گاہ پر ان کی والدہ، بھائیوں اور کمسن بیٹوں سے ملاقات کرتے ہوئے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ ڈی جی پی آر کے مطابق محسن نقوی اور سرفراز بگٹی نے فتنہ الہندوستان کے بزدلانہ حملے میں جام شہادت نوش کرنے والے میجر انور کاکڑ کی عظیم قربانی کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی۔ محسن نقوی اور سرفراز بگٹی نے شہید میجر انور کاکڑ کی والدہ کے بلند حوصلے کو سراہا اور ان کے بیٹوں سے شفقت کا اظہار کیا اور دلاسہ دیا۔ اس موقع پر میجر انور کی والدہ نے وفاقی وزیر داخلہ کو بتایا کہ میرا بیٹا شیر تھا۔ وطن پر قربان ہو گیا۔ بیٹے کی شہادت پر فخر ہے۔ 2 اور بیٹے بھی وطن کے لئے حاضر ہیں۔ اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ نے اعلان کیا کہ میجر انور کاکڑ کے دوسرے بیٹے کا بھی ایچیسن کالج میں داخلہ کرایا جائے گا۔ جبکہ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے شہید میجر انور کاکڑ کے بھائی خدائیداد خان کو سرکاری ملازمت دینے کا اعلان کیا۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ ایک اسکول کو شہید میجر انور کاکڑ کے نام سے منسوب کیا جائے گا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ آپ پاکستان کے بہادر بیٹے کی باہمت والدہ ہیں اور قوم کو آپ پر فخر ہے۔ آپ جیسی بلند حوصلہ والدہ کا جذبہ دیکھ کر ہمارا حوصلہ اور بڑھ گیا ہے۔ آپ کا عزم اور جذبہ ہی قوم کی اصل قوت ہے۔ شہید میجر انور کاکڑ اور آپ ہمارے سر کا تاج ہیں۔ شہداء کے خون کا ایک ایک قطرہ وطن کے تحفظ کی ضمانت ہے۔ اس موقع پر سرفراز بگٹی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میجر انور کاکڑ نے قیمتی جان وطن پر نچھاور کی اور شہادت کا بلند رتبہ پایا۔ شہید میجر انور کاکڑ کی عظیم قربانی کو سلام پیش کرتے ہیں۔ شہید میجر انور کاکڑ ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شہداء قوم کا فخر اور سرمایۂ افتخار ہیں۔ قوم اپنے ہیروز کی قربانیوں کو کبھی نہیں بھولے گی۔ آخر میں محسن نقوی اور سرفراز بگٹی نے شہید میجر انور کاکڑ کے اہل خانہ کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی۔ اس موقع پر بلوچستان کے صوبائی وزراء، چیف سیکرٹری بلوچستان، آئی جی پولیس بلوچستان بھی موجود تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شہید میجر انور کاکڑ میجر انور کاکڑ کی وفاقی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے محسن نقوی اور انور کاکڑ کے کی والدہ کہا کہ
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔