بلوچستان ایک اہم اور حساس صوبہ ہے ،محمد طاہر
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوئٹہ(نمائندہ جسارت)انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان محمد طاہر نے کہا ہے کہ بلوچستان ایک اہم اور حساس صوبہ ہے جہاں امن کا قیام نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پولیس ٹریننگ کالج کوئٹہ کے دورہ کے موقع پر کیا۔آئی جی پولیس محمد طاہر نے تربیتی سہولیات، بم ڈسپوزل یونٹ اور سابقہ لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ تربیت کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہیں پولیس ٹریننگ کالج میں جاری تربیتی پروگراموں، جدید سہولیات اور بارودی مواد کو ناکارہ بنانے کے آلات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر نے اس موقع پر کہا کہ بلوچستان پولیس کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے تاکہ دہشت گردی اور دیگر سنگین جرائم کے چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں پائیدار امن کا قیام پولیس کی ترجیحات میں سرِ فہرست ہے اور بدلتے ہوئے سیکیورٹی حالات سے نمٹنے کے لیے اہلکاروں کو انسداد دہشت گردی، بم ڈسپوزل، انٹیلی جنس اور جدید تفتیشی طریقہ کار کی خصوصی تربیت دی جا رہی ہے۔ آئی جی پولیس کے مطابق بلوچستان پولیس جدید ٹیکنالوجی اور مضبوط ادارہ جاتی نظام کے ذریعے صوبے کو پرامن بنانے کیلیے ہمہ وقت مستعد ہے اور کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: محمد طاہر
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔