گلبرگ ٹاؤن: خان گراؤنڈ اور عمر پارک کی تزئین و آرائش تیز
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر)چیئرمین گلبرگ ٹاؤن نصرت اللہ نے یو سی 2خان گراؤنڈ اور عمرپارک کا دورہ کیا، جہاں پارک وگراؤنڈ کی تزئین و آرائش کے کام تیزی سے جاری ہیں۔ گراؤنڈ کو دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے روشنی کا مناسب انتظام پارک کے دونوں اطراف بینچز اور سایہ دار درخت لگائے جا رہے ہیں بچوں کے لیے جھولے جبکہ شہریوں کے لیے جاگنگ ٹریک کی تعمیر بھی عمل میں لائی جا رہی ہے۔دورے کے موقع پر چیئرمین گلبرگ ٹاؤن نصرت اللہ نے جاری کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ یوسی چیئرمین فیصل شیخ، ڈائریکٹر باغات ندیم، اور علاقے کے رہائشی بھی موجود تھے۔چیئرمین نصرت اللہ نے اس موقع پر کہا کہ خان گراؤنڈ و عمر پارک کی بحالی شہریوں کو صحت مند اور تفریحی سرگرمیوں کے بہتر مواقع فراہم کرنے کی غرض سے کی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی گلبرگ ٹاؤن کے 10 مزید پارکوں میں تزین و آرائش کا کام جاری ہے انہوں نے کہا کہ گلبرگ ٹاؤن انتظامیہ کھیل کے میدانوں، پارکوں اور عوامی مقامات کی بہتری کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے تاکہ شہریوں کو صاف ستھرا اور خوشگوار ماحول میسر آ سکے۔انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی کام معیار کے مطابق اور مقررہ وقت میں مکمل کیے جائیں تاکہ عوام جلد از جلد ان سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گلبرگ ٹاو ن گراو نڈ
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔ نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔ ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔