کراچی: گلشنِ معمار میں 17 سالہ گھریلو ملازمہ سے زیادتی، مرکزی ملزم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی کے علاقے گلشنِ معمار میں ایک افسوسناک اور لرزہ خیز واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں 17 سالہ گھریلو ملازمہ کو اغوا کے بعد جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ میڈیکل معائنے کی رپورٹ میں زیادتی کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ تفتیش کے دوران رہائشی اپارٹمنٹ یونین کے سابق صدر کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جسے مرکزی ملزم قرار دیتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا ہے۔
متاثرہ لڑکی نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ تین افراد نے اسے زبردستی اغوا کیا اور تشدد کے بعد اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا، واقعے کے بعد اسے شدید جسمانی تکلیف کے ساتھ ساتھ گہرے ذہنی صدمے کا بھی سامنا کرنا پڑا، جس کے اثرات اب تک برقرار ہیں۔
واقعے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شاہدہ رحمانی نے متاثرہ لڑکی اور اس کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی اور انہیں ہر ممکن قانونی اور اخلاقی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شاہدہ رحمانی نے واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق کڑی سزا ملنی چاہیے۔
متاثرہ لڑکی کے اہلِ خانہ نے پولیس پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی طور پر مقدمہ درج کرنے میں ٹال مٹول سے کام لیا گیا اور انہیں مختلف حیلوں بہانوں سے ہراساں بھی کیا گیا، پولیس کی غفلت کے باعث ملزمان کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی گئی۔
معاملے کی سنگینی کے پیشِ نظر آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ایس ایچ او گلشنِ معمار کو معطل کر دیا۔ آئی جی سندھ کی مداخلت کے بعد واقعے کا مقدمہ اغوا، زیادتی اور تشدد کی دفعات کے تحت درج کر لیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزم کی گرفتاری کے بعد دیگر ملوث افراد کی تلاش کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، جبکہ تفتیش کو شفاف اور غیر جانبدار رکھنے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے بعد
پڑھیں:
پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
کراچی کے علاقے گلستان جوہر سے مطلوب منشیات فروش خاتون شیریں شرینہ کو بیٹوں سمیت گرفتار کرلیا گیا۔پولیس کے مطابق شیریں شرینہ ملزمہ کو دونوں بیٹوں کے ساتھ کامران چورنگی سے گرفتار کیا گیا، ملزمہ ہیروئن، چرس اور دیگر منشیات فروخت کرتی تھی۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ چند سال قبل گرفتار ہوکر جیل گئی تھی اور دو سال پہلے واپس آئی تھی، ملزمہ شیریں عرف شیرینہ کے خلاف 35 کے قریب مقدمات درج ہیں، ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سےدستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔پولیس حکام کا بتانا ہے کہ ملزمہ اپنے فلیٹ کی کھڑکی سے ڈائریکٹ ہیروئن سپلائی کرتی تھی، گرفتار ملزمہ اور ملزمان سے مذید تفتیش کی جارہی ہے۔