کراچی میں پولیس مقابلہ، کورنگی سے زخمی سمیت 4 ڈاکو گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
کراچی:
شہر قائد میں عوامی کالونی پولیس نے کورنگی نمبر 5 جلیبی چوک کے قریب مبینہ مقابلے کے دوران زخمی سمیت چار ڈاکوؤں کو گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران ملزمان نے فائرنگ کی، جس پر پولیس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایک ڈاکو کو زخمی حالت میں قابو کر لیا جبکہ اس کے تین ساتھیوں کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ زخمی ملزم کی شناخت فرحان زیب کے نام سے ہوئی ہے، جسے طبی امداد کے لیے فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
مزید پڑھیںکراچی، پولیس مقابلے، ایک ڈاکو ہلاک، دو زخمی حالت میں گرفتار، راہگیر بھی زخمی
کراچی میں پولیس مقابلوں میں 1 ڈاکو ہلاک، دو زخمی
دیگر گرفتار ملزمان میں نعمت اللہ، شہزاد اور جنید علی شاہ شامل ہیں، جنہیں قانونی کارروائی کے لیے تھانے منتقل کر دیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کے قبضے سے اسلحہ، موبائل فونز، نقد رقم اور دو موٹر سائیکلیں برآمد کر لی گئی ہیں، جو مبینہ طور پر وارداتوں میں استعمال ہوتی تھیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کے کرمنل ریکارڈ کی جانچ جاری ہے اور مزید تفتیش کے بعد انکشافات متوقع ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔