دریائے کرم پر اہم رابطہ پل بارودی مواد سے تباہ، لاکھوں افراد کا زمینی رابطہ منقطع
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
شمالی وزیرستان کی تحصیل شیواہ میں دریائے کرم پر قائم ایک اہم اہل رابطہ پل کو نامعلوم افراد نے بارودی مواد کے ذریعے اُڑا دیا، جس کے نتیجے میں پل مکمل طور پر تباہ ہوگیا اور علاقے کا میران شاہ سمیت دیگر علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔
زرایع کے مطابق نامعلوم عناصر نے رات گئے پل کے نیچے بارودی مواد نصب کیا، جس کے بعد زور دار دھماکے سے پل زمین بوس ہوگیا۔ پل کی تباہی کے باعث لاکھوں افراد کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ آمد و رفت کا اہم ذریعہ بھی بند ہو چکا ہے۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پل نہ صرف عوامی نقل و حرکت بلکہ تجارتی سرگرمیوں کے لیے بھی انتہائی اہمیت کا حامل تھا، اور اس کی تباہی سے روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو گئی ہے۔
واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ اہلیانِ علاقہ نے اس بزدلانہ اور گھناؤنے فعل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت اور سکیورٹی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث عناصر کو جلد از جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔
سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔