رحیم یار خان میں ایک انتہائی نایاب اور حیران کن طبی کیس سامنے آیا ہے جہاں شیخ زید اسپتال کے ماہر سرجنز نے 5 سالہ کمسن بچے کے سینے سے ایک نامکمل بچے کو کامیابی سے نکال دیا۔

اسپتال انتظامیہ کے مطابق یہ پیچیدہ آپریشن خصوصی جراحی ٹیم نے کیا جس کی قیادت تھوراسک سرجن ڈاکٹر سلطان محمود اویسی نے کی۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا میں 30 سال سے منجمد ایمبریو سے بچے کی پیدائش، دنیا کے پہلے عمر رسیدہ بچے کی آمد

 برآمد ہونے والا نامکمل بچہ fetus in fetu کہلانے والی نایاب کیفیت کا شکار تھا، جس میں جڑواں بچوں میں سے ایک، دوسرے کے جسم کے اندر نشوونما پانے لگتا ہے، یہ نامکمل بچہ بچے کی دل کی مرکزی شریان کے قریب موجود تھا۔

ڈاکٹروں کے مطابق نامکمل بچہ قبل از وقت تھا اور زندہ نہیں رہ سکا۔ شیخ زید اسپتال کے ترجمان نے بتایا کہ آپریشن کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے اور سرجری کے بعد بچے کی حالت تسلی بخش ہے جبکہ اسے بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر سلطان محمود اویسی نے کہا کہ ایسے کیسز عموماً پیٹ میں پائے جاتے ہیں، تاہم سینے میں اس نوعیت کا کیس سامنے آنا انتہائی غیر معمولی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مکہ مکرمہ میں معجزہ: دل 5 بار بند ہونے کے بعد پاکستانی حاجی کو نئی زندگی مل گئی

 ان کا کہنا تھا کہ نامکمل بچے کے کئی اعضا بن چکے تھے لیکن یہ کیفیت 5 سال تک تشخیص سے اوجھل رہی۔

ڈاکٹر کے مطابق متاثرہ بچہ 18 دن کی عمر سے سانس لینے میں دشواری، سینے کے انفیکشن، کھانسی اور بار بار بخار میں مبتلا رہا۔ کئی ڈاکٹروں سے رجوع کے باوجود اصل مسئلہ حال ہی میں کیے گئے سی ٹی اسکین کے بعد سامنے آیا۔

ڈاکٹر سلطان نے بتایا کہ نامکمل بچے میں ریڑھ کی ہڈی، بال، دانت اور دیگر جسمانی اعضا موجود تھے، تاہم سر موجود نہیں تھا اور اس کا وزن تقریباً ایک کلوگرام تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  ہریانہ: ایمبولینس حادثے میں مردہ شخص پھر زندہ ہو گیا

یہ کیس نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں طبی ماہرین کے لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

fetus in fetu we news بچہ پاکستان رحیم یار خان سینا شیخ زید اسپتال طبی معجزہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بچہ پاکستان رحیم یار خان شیخ زید اسپتال نامکمل بچہ بچے کی

پڑھیں:

سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا


فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔

سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد