گھریلوصارفین کوبلا تعطل گیس کی فراہمی یقینی بنائی جائے، علی پرویز ملک

اسلام آباد(نیوزڈیسک) وفاقی وزیرپیٹرولیم علی پرویز ملک نےسردیوں کےدوران گھریلو صارفین کو بلا تعطل گیس فراہم نہ ہونے پر نوٹس لیتے ہوئے سوئی گیس کمپنیوں کو گیس فراہمی بہتر بنانے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

وفاقی وزیر نےسوئی ناردرن اور سوئی سدرن کو واضح ہدایات دیتےہوئےکہا کہ گھریلوصارفین کوبلا تعطل گیس کی فراہمی یقینی بنائی جائے،صنعت سے گھریلو شعبے کو اضافی گیس منتقل کرنے کے آپشن پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

وزیرپیٹرولیم نےسوئی کمپنیوں کوگیس کی طلب و رسد سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئےکہاکہ پیٹرولیم ڈویژن میں روزانہ صبح 10 بجےگیس کی صورتحال کی مانیٹرنگ کی جارہی ہے،سوئی ناردرن کے مطابق 6 جنوری سے گھریلو گیس سپلائی 691 سے بڑھا کر 746 ایم ایم سی ایف ڈی کر دی گئی ہے جبکہ شیوا فیلڈ کی پیداوار 55 سے بڑھا کر 65 ایم ایم سی ایف ڈی کر دی گئی ہے۔

سوئی سدرن حکام کا کہنا ہےکہ دو گیس فیلڈز کی بحالی سے سپلائی کی صورتحال میں بہتری آئی ہے اور گزشتہ سال کے مقابلے میں گھریلو صارفین کو 39 ایم ایم سی ایف ڈی اضافی گیس فراہم کی جا رہی ہے۔ تاہم صنعت کو گیس بندش ایک دن سے بڑھا کر دو دن کرنے کے معاملے پر مشاورت جاری ہے۔

وفاقی وزیر نےکہا کہ حکومت کی اولین ترجیح سردیوں میں گھریلو صارفین کو ریلیف فراہم کرنا ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: تعطل گیس گیس کی

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • 5 دنوں میں پٹرول اور ڈیزل اوسطاً 54 روپے بڑھا دیا گیا: تیمور جھگڑا