عمران خان سے ملاقات کا دن، ہم نہیں چاہتے جمہوریت ڈی ریل ہو، ترجمان بانی پی ٹی آئی
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
راولپنڈی:
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں کسی بھی رہنما کو ملاقات کی اجازت نہیں ملی جبکہ فہرست میں شامل دو رہنما اڈیالہ جیل ہی نہیں آئے، ترجمان بانی پی ٹی آئی نیاز اللہ نیازی نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے جمہوریت ڈی ریل ہو، ہم چاہتے ہیں سب کا احتساب ہو۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان سے آج جیل میں دوستوں کی ملاقات کا دن تھا جہاں ملاقات کی فہرست میں 6 رہنماوں میں سے 4 رہنما ترجمان بانی پی ٹی آئی نیازاللہ نیازی، سینیٹر فلک ناز، انعام اللہ خان یوسفزئی اور صفدر حسین ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل آئے لیکن کسی کو بھی بانی سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی، فہرست میں شامل پی ٹی آئی رہنما عمران شوکت اور سعد علی خان اڈیالہ جیل ہی نہیں پہنچے۔
اڈیالہ روڈ داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو میں ترجمان بانی نیازاللہ نیازی نے کہا کہ کسی پارٹی لیڈر کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی، ملاقات نہیں ہونے سے ہمیں نہیں معلوم بانی پی ٹی آئی کس حالت میں ہیں، چار ہفتوں سے کسی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے لارجر بینچ کے احکامات ہیں ملاقات کرائیں، نہ فیملی کی ملاقات ہو رہی ہے، نہ وکلا نہ ہی لیڈر شپ کی، بشریٰ بی بی کے ساتھ بھی کسی کی ملاقات نہیں ہورہی ہے، قیدی کا حق ہے کہ وہ ہفتے میں دو بار اپنے اہل خانہ سے ملاقات کرے۔
نیازاللہ نیازی نے کہا کہ ہماری توہین عدالت کی درخواستیں بھی مختلف عدالتوں میں پڑی ہیں، 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ مکمل طور پر ایگزیکٹیو کے نیچے ہے، ملک کا وزیراعظم بھی کہتا ہے کہ ملاقات ہوگی یا نہیں پوچھ کر بتاتا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے کبھی فوجی ادارے کے خلاف بات نہیں کی لیکن مجھے بھی ملاقات کرنے نہیں دی، میں بانی کا ترجمان ہوں مجھے کیوں ملاقات سے روکا جاتا ہے، نواز شریف بھی جیل میں تھا سب پارٹی لیڈر اس سے ملاقات کرتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے واضح کیا تھا کہ ان کے ایکس اکاؤنٹ سے جو بھی پوسٹ ہوگی، نیاز اللہ نیازی تحریر کریں گے، بانی پی ٹی آئی ورلڈ کپ جیت کر آئے سابق وزیراعظم ہیں ان سے سیاسی گفتگو نہیں ہوگی تو کیا ہوگا۔
ترجمان بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ کل الیکشن کرائیں لوگ آپ کو بتا دیں گے کہ وہ کس کے ساتھ ہیں، بانی نے کہا تھا کہ خیبرپختونخوا کے حالات پر لیڈر شپ سے ملنا چاہتا ہوں، ہر لیڈر کی اپنی پالیسی ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بانی بھی اپنے لیڈرز کو پالیسی دینا چاہتا ہے، ہماری کسی ادارے کے ساتھ جنگ نہیں ہے، آئین پاکستان میں ہر ادارے کی حدود متعین ہے، کیا بانی پی ٹی آئی کی پالیسی پاکستان بچانے کے لیے نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے بانی پی ٹی آئی کو بتایا تھا آپ کے ایکس اکاؤنٹ پر جتنی گفتگو ہوتی ہے میں پوسٹ کروں گا، ووٹ چوری سے بڑا جرم کوئی نہیں ہمارا ووٹ چوری کیا گیا، سابق کمشنر راولپنڈی کا بیان آن ریکارڈ ہے۔
نیازاللہ نیازی نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں اس ملک میں احتساب ہو یہ ملک آگے چلے، ہم نہیں چاہتے جمہوریت ڈی ریل ہو، ملک میں صاف شفاف الیکشن کرائیں پھر جس کو ووٹ ملتے ہیں وہ حکومت بنائے، ایک سائیڈ پر بانی کا نظریہ ہے اور دوسری طرف 77 سال سے قائم نظام ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ترجمان بانی پی ٹی آئی نیازاللہ نیازی نیازی نے کہا اڈیالہ جیل ملاقات کی سے ملاقات نے کہا کہ تھا کہ
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔