ایرانی عدلیہ نے سزائے موت سے متعلق جعلی خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
عدلیہ نے کہا کہ 26 سالہ سلطانی کو حالیہ فسادات کے دوران 10 جنوری کو گرفتار کیا گیا اور اس پر "ملک کی داخلی سلامتی کے خلاف اجتماع اور سازش" کے ساتھ ساتھ اسلامی جمہوریہ کے خلاف "پروپیگنڈا سرگرمیوں" کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر قانونی طریقہ کار کے تحت اسے سزا دی جاتی ہے تو سزا قید ہو گی۔ بنیادی طور پر ایسے الزامات پر قانون میں موت کی سزا کا وجود ہی نہیں ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی عدلیہ نے حالیہ فسادات کے دوران گرفتار عرفان سلطانی کو سزائے موت دیے جانے سے متعلق غیر ملکی میڈیا کی جعلی خبروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں من گھڑت اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ایرانی عدلیہ کا کہنا ہے کہ اس افواہ نے نہ صرف عوام کو بلکہ واشنگٹن کو بھی گمراہ کیا۔ ایرانی عدلیہ کے میڈیا سینٹر کی جانب سے جمعرات کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی وزارتِ خارجہ نے اپنے فارسی زبان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر یہ غلط دعویٰ کیا کہ عرفان سلطانی کو 14 جنوری کو سزائے موت دی جائے گی، حالانکہ یہ بات حقیقت کے بالکل برعکس ہے۔ عدلیہ نے کہا کہ 26 سالہ سلطانی کو حالیہ فسادات کے دوران 10 جنوری کو گرفتار کیا گیا اور اس پر "ملک کی داخلی سلامتی کے خلاف اجتماع اور سازش" کے ساتھ ساتھ اسلامی جمہوریہ کے خلاف "پروپیگنڈا سرگرمیوں" کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر قانونی طریقہ کار کے تحت اسے سزا دی جاتی ہے تو سزا قید ہو گی۔ بنیادی طور پر ایسے الزامات پر قانون میں موت کی سزا کا وجود ہی نہیں ہے۔
ایرانی عدلیہ نے یہ بھی واضح کیا کہ سلطانی اس وقت تہران کے شمال مغرب میں واقع شہر کرج کی مرکزی جیل میں قید ہے۔ بیان میں عدلیہ نے ان جعلی خبروں کی بھی مذمت کی جو دشمن میڈیا نے پھیلائیں، اور جنہوں نے ایران میں بیرونی سپانسرڈ شدہ فسادات میں دہشت گردوں کی حمایت کی ہے۔ عدلیہ نے کہا کہ اس افواہ نے امریکی دفترِ خارجہ کو غلط اور گمراہ کن موقف اپنانے پر مجبور کیا۔ بیان کے مطابق "امریکی حمایت یافتہ اپوزیشن گروہوں کی جانب سے ایسی افواہیں پھیلانا، اور ان کی امریکی حکومت کو گمراہ کرنے کی صلاحیت، یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ لوگ جو امریکی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرتے ہیں اور صہیونی مفادات کی حمایت کرتے ہیں، وہ قابلِ اعتماد نہیں ہیں اور یہاں تک کہ اپنے مالی و سیاسی سرپرستوں کو بھی فریب دیتے ہیں۔" عدلیہ نے زور دیا کہ دشمن میڈیا ایک طویل عرصے سے ایران کے بارے میں جان بوجھ کر جھوٹی افواہیں پھیلا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایرانی عدلیہ سلطانی کو عدلیہ نے کے خلاف
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔