سوشل میڈیا سے عدلیہ مخالف پوسٹیں فوری ہٹائی جائیں: ہائیکورٹ
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
لاہور (خبر نگار) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی ضیاءباجوہ نے ججوں کے خلاف سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا کے خلاف کارروائی سے متعلق درخواست کا تحریری حکم جاری کر دیا، عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا سے عدلیہ مخالف پوسٹیں فوری ہٹائی جائیں، اگر کوئی فرد عدلیہ کی ساکھ متاثر کرنے اور جھوٹے پروپیگنڈے میں ملوث پایا تو سخت قانونی کارروائی ہوگی۔ چار صفحات پر مشتمل تحریری حکم میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کی تضحیک کرنیوالوں نے توہین عدالت کی کسی رعایت کے مستحق نہیں، آزادی اظہار رائے کی آڑ میں عدلیہ کی توہین کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ سرکاری اداروں کا غیر فعال ہونا ان کی قانونی ذمہ داریوں کے برخلاف ہے۔ عدلیہ کی توہین، تضحیک کرنے والوں کو سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا، درخواست گزار کے وکیل میاں داﺅد نے موقف اپنایا کہ عدلیہ کی ساکھ متاثر کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا شروع کیا گیا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق اہم معاملہ ہونے کے باوجود کسی ریاستی ادارے نے کارروائی نہیں کی، عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ درخواست میں اٹھائے گئے نکات اہم نوعیت کے ہیں، لہٰذا درخواست ریگولر کارروائی کےلئے منظور کی جاتی ہے، کسی انفرادی شخص کو حق نہیں آزادی اظہار کے نام پر عدلیہ کو سکینڈلائز کرے۔ تحریری حکم میں کہا گیا ہے کہ ڈی جی این سی سی آئی اے سوشل میڈیا پر پروپیگنڈے میں ملوث تمام افراد کی نشاہدہی کر کے رپورٹ فائل کریں اور آئندہ سماعت پر پیش ہو کر بتائیں کہ سائبر پولیس نے کارروائی کیوں نہ کی، چیئرمین پی ٹی اے بھی آئندہ سماعت پر اپنی تفصیلی رپورٹ پیش کریں، تحریری حکم میں مزید کہا گیا ہے کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو آگاہ کیا کہ حکومت ایسے اقدامات کو سپورٹ نہیں کرتی ہے، درخواست پر مزید کارروائی 15جنوری کو ہو گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: حکم میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا عدلیہ کی
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔