WE News:
2026-07-24@02:28:00 GMT

ٹرمپ کا ایران کیخلاف فیصلہ کن مگر محدود فوجی کارروائی پر غور

اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT

ٹرمپ کا ایران کیخلاف فیصلہ کن مگر محدود فوجی کارروائی پر غور

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی قومی سلامتی ٹیم کو آگاہ کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کی گئی تو وہ ایسی ہونی چاہیے جو تیزی سے اور فیصلہ کن انداز میں اثر دکھائے۔

امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز کے مطابق صدر ٹرمپ کسی غیر یقینی اور طویل عسکری تصادم کے حق میں نہیں، جو ہفتوں یا مہینوں پر محیط طویل جنگ میں بدل جائے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران بحران: مظاہرین کے قتل پر امریکا مداخلت کرسکتا ہے، ٹرمپ کی وارننگ

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے مشیروں نے ابھی تک اس بات کی ضمانت نہیں دی کہ امریکی حملے کی صورت میں ایرانی حکومت فوری طور پر کمزور یا ختم ہو جائے گی۔

اس کے ساتھ ساتھ امریکی انتظامیہ کو اس خدشے کا بھی سامنا ہے کہ خطے میں موجود فوجی وسائل فی الحال ایران کے ممکنہ سخت ردعمل سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر کافی نہیں۔

⚡️Trump has told advisers that any U.

S. military action against Iran must be swift, decisive, and avoid a prolonged war.

Advisers have not been able to guarantee that a strike would quickly collapse the Iranian regime, raising concerns about retaliation and U.S. readiness in the… pic.twitter.com/kJSkITk115

— The Global Monitor (@theglobal4u) January 15, 2026

انہی وجوہات کے باعث اگر صدر ٹرمپ فوجی کارروائی کا فیصلہ کرتے ہیں تو ابتدا میں محدود نوعیت کے حملوں کی منظوری دی جا سکتی ہے، جبکہ حالات کے مطابق کارروائی میں وسعت کا راستہ کھلا رکھا جائے گا۔

تاہم امریکی حکام کے مطابق صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

این بی سی نیوز سکے مطابق صدر ٹرمپ اس مؤقف پر قائم ہیں کہ امریکا ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔

مزید پڑھیں: امریکا نے حملہ کیا تو اسرائیل اور امریکی اڈے محفوظ نہیں رہیں گے، ایران کی ٹرمپ کو دھمکی

ان کے قریبی افراد کے مطابق اگر صدر کوئی قدم اٹھاتے ہیں تو وہ چاہتے ہیں کہ اس کا نتیجہ واضح اور حتمی ہو۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں کہا ہے کہ ایران میں جاری احتجاجی تحریک کے باعث حکومت کمزور ہو سکتی ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک میں اقتدار کا خاتمہ یقینی نہیں ہوتا۔ انہوں نے ایران کے معزول شاہ کے بیٹے رضا پہلوی کے بارے میں بھی شکوک کا اظہار کیا۔

مزید پڑھیں: ایران-اسرائیل جنگ سے ٹرمپ کو دور رہنا چاہیے، امریکا کے اندر سے آوازیں اٹھنا شروع

صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہیں قابلِ اعتماد ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ ایران میں مظاہرین کے خلاف ہلاکتیں رک گئی ہیں اور ممکنہ پھانسیوں کا منصوبہ بھی مؤخر کر دیا گیا ہے۔

ان کے مطابق یہی وہ اقدامات تھے جو امریکی فوجی ردعمل کا سبب بن سکتے تھے، تاہم امریکا فی الحال صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

امریکی حکام کے مطابق پینٹاگون نے صدر ٹرمپ کی ہدایات کی روشنی میں مختلف فوجی آپشنز تیار کر لیے ہیں، جنہیں حالیہ دنوں میں مزید بہتر اور اپ ڈیٹ کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران-اسرائیل کشیدگی پر ڈونلڈ ٹرمپ کی ماگا تحریک منقسم ہوگئی

ان منصوبوں میں ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائی، امریکی افواج، اتحادی ممالک اور خاص طور پر اسرائیل کو لاحق خطرات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔

خطے میں احتیاطی اقدامات کے تحت قطر میں واقع امریکی فضائی اڈے العدید سے سینکڑوں امریکی فوجیوں کو عارضی طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران میں امن بحال، لوگوں کو پھانسی دینے کا کوئی منصوبہ نہیں، وزیر خارجہ

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات فوجیوں، شہریوں اور ان کے اہلِ خانہ کے تحفظ کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

اگرچہ امریکا نے ایران کے خلاف کسی بڑے پیمانے کی فوجی کارروائی کے لیے اضافی افواج تعینات نہیں کیں، تاہم خطے میں موجود امریکی فضائی، بحری اور زمینی وسائل محدود یا ہدفی حملوں کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

احتجاجی تحریک اسرائیل امریکا ایران پینٹاگون رضا پہلوی صدر ٹرمپ فضائی اڈے العدید فوجی کارروائی مظاہرین معزول شاہ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: احتجاجی تحریک اسرائیل امریکا ایران پینٹاگون رضا پہلوی فضائی اڈے العدید فوجی کارروائی مظاہرین معزول شاہ فوجی کارروائی مزید پڑھیں ایران میں ایران کے کے مطابق کی فوجی کے لیے گیا ہے

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل