Islam Times:
2026-06-03@00:28:25 GMT

سیاست سے معشیت تک، امریکہ میں صیہونی غلبے کا احوال

اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT

سیاست سے معشیت تک، امریکہ میں صیہونی غلبے کا احوال

اسلام ٹائمز: فروری 2021ء میں، سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی افتتاحی تقریب کے ایک ماہ سے بھی کم عرصے بعد، اسرائیلی روزنامہ یروشلم پوسٹ نے نئے صدر کی 15 یہودی سیاستدانوں کی تقرریوں کا جشن منایا۔ کالم نگار شلومو مائیٹل نے اخبار میں لکھا کہ "امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنی نئی انتظامیہ کے لیے ایک مضبوط، تجربہ کار ٹیم مقرر کی ہے۔ اس ٹیم میں آدھی تعداد یہودیوں کی ہے۔ تحریر: Maryam Qarehgozlou

جب ٹیک ارب پتی لیری ایلیسن کو ٹک ٹاک کی امریکہ میں آپریشنز کی نگرانی کے لیے منتخب کیا گیا تو اس اقدام نے فوری طور پر اوریکل کے شریک بانی کے اسرائیلی حکومت سے دیرینہ تعلقات پر تنقید کو جنم دیا اور یہ خدشات پیدا ہوئے کہ اس سے پلیٹ فارم پر فلسطینی حامی مواد کی سنسرشپ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اوریکل کا عروج اس وقت ہوا جب امریکہ کی سپریم کورٹ نے گزشتہ سال کے شروع میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرنے والے قانون کو برقرار رکھا، جس سے کمپنی کو چینی ملکیت والے ایپ کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے سب سے مضبوط امیدوار بنا دیا گیا۔ اس انتظام کے تحت، اوریکل "محفوظ کلاؤڈ فراہم کنندہ" کے طور پر کام کرے گی، جو امریکہ کے صارفین کا ڈیٹا اسٹور کرے گی اور سفارشاتی الگورتھم کو کنٹرول کرے گی۔ ایک ایسا اختیار جو واشنگٹن نے مبینہ چینی "جوڑ توڑ" کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری قرار دیا۔

لیکن جہاں ٹک ٹاک کے خلاف مہم ظاہری طور پر چین مخالفوں کی قیادت میں تھی، وہاں واشنگٹن میں پرو اسرائیل ٹھیکیداروں اور طاقتور صیہونی لابی نے سیاسی دباؤ کو بڑھانے میں مرکزی کردار ادا کیا، جس نے اوریکل کو ٹیک اوور کے لیے واضح انتخاب بنا دیا۔ فلسطین نواز وکلاء کا کہنا ہے کہ ایک گہرا محرک یہ رہا ہے کہ ٹک ٹاک پر فلسطینی حامی رائے اور جذبات کی غالب تعداد کو خاموش کیا جائے، جہاں صارفین نے غزہ پر اسرائیل کی نسل کش جنگ کی تفصیلات دستاویزی شکل میں پیش کیں اور امریکی اسرائیلی بیانیوں کو چیلنج کیا۔ یہ پلیٹ فارم غزہ سے غیر فلٹر شدہ فوٹیج کا کلیدی ذریعہ بن گیا ہے، جس میں تباہی، شہری ہلاکتوں اور عالمی یکجہتی مہموں کے مناظر شامل ہیں۔ نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی کی تحقیق نے مسلسل دکھایا ہے کہ فلسطینی حامی پوسٹس اسرائیلی حامی مواد سے کہیں زیادہ ہیں، ستمبر 2025ء میں، تقریباً 17 سے 1 کے تناسب سے۔

یہ عدم توازن ٹک ٹاک کے نوجوان صارفین کی بنیاد، جنریشن زیڈ اور ملینیلز (millennials)، کی عکاسی کرتا ہے، جو واشنگٹن اور تل ابیب کے من گھڑت موقف کو تیزی سے مسترد کر رہے ہیں۔ اسرائیلی قیادت کو خطرات کا اندازہ ہے۔ بنجمن نیتن یاہو نے حال ہی میں سوشل میڈیا کو جدید جنگ میں ایک فیصلہ کن "ہتھیار" قرار دیا، اور ٹک ٹاک کی فروخت کو امریکی عوامی رائے پر اثر و رسوخ حاصل کرنے کے لیے "سب سے اہم خریداری" کہا۔ اوریکل کے اسرائیلی مفادات سے گہرے تعلق نے صرف خدشات کو بڑھایا ہے۔ کمپنی نے پہلے ہی ٹک ٹاک کے آپریشنز کے کچھ حصوں پر اپنی گرفت مضبوط کر لی تھی جبکہ کھلے طور پر پرو اسرائیل ایجنڈے کو اپنایا۔ دی انٹرسیپٹ کی ایک تحقیق کے مطابق کمپنی نے اپنے اندر فلسطینی نواز سرگرمی کو دبایا۔ اوریکل کی سی ای او صفرا کیٹز، ایک اسرائیلی نژاد امریکی اور صیہونی منصوبے کی دیرینہ حامی، نے اپنا موقف واضح طور پر بیان کرتے ہوئے اسرائیلی اقتصادی آؤٹ لیٹ کو بتایا: "ملازمین کے لیے یہ واضح ہے کہ اگر آپ امریکہ یا اسرائیل کے لیے نہیں ہیں تو یہاں کام نہ کریں، یہ ایک آزاد ملک ہے۔"

ایلیسن (Ellison)، اسرائیلی مقاصد کیلئے سب سے زیادہ فنڈز دینے والا اور ٹرمپ کا قریبی اتحادی ہے، نے 2017ء میں امریکہ میں قائم نام نہاد تنظیم "فرینڈز آف دی اسرائیل فورسز" کو تاریخ کا سب سے بڑا عطیہ دیا، یہ ایک امریکی تنظیم ہے جو اسرائیلی فوج سے منسلک ہے اور غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں نسل کش حملوں کی ذمہ دار ہے۔ اوریکل کی اسرائیل کے لیے مادی حمایت خیرات سے کہیں آگے ہے۔ 2021ء میں، کمپنی نے مقبوضہ القدس میں 319 ملین ڈالر کا ڈیٹا سینٹر کھولا، جو اسرائیلی بینکوں، صحت کے اداروں اور فوجی یونٹوں کو کلاؤڈ سروسز فراہم کرتا ہے۔ اسرائیل کے 7 اکتوبر 2023ء کو غزہ پر نسل کش حملے شروع کرنے کے فوراً بعد، اوریکل نے کھلے طور پر صیہونی حکومت کی حمایت کا اعلان کیا حالانکہ ہسپتالوں اور سکولوں پر بمباری ہو رہی تھی۔ سفرا کیٹز نے ہدایت دی کہ "اوریکل اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے" کا پیغام کمپنی کی سکرینوں پر 180 سے زیادہ ممالک میں دکھایا جائے۔

کمپنی نے اسرائیل کی ڈیجیٹل پروپیگنڈہ کوششوں میں بھی فعال شرکت کی۔ غزہ پر جنگ کے پھوٹنے کے بعد، اوریکل اور اسرائیلی حکومتی افسران نے "ورڈز آف آئرن" (words of Iron) نامی پروجیکٹ تیار کیا، جو پرو اسرائیل مواد کو بڑھاوا دینے اور ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور ٹوئٹر پر خوفناک جنگی جرائم کو دھونے اور تنقیدی بیانیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ فروری 2024ء میں، اوریکل نے اسرائیلی فوج کے سائبر ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ ایک منصوبے میں تعاون کیا جس میں غزہ کے قریب غیر قانونی آبادکاریوں کی بحالی کے لیے "ٹیک حل" (tech sulotion) تلاش کیے گئے۔ اسی وقت کے آس پاس، اوریکل نے اسرائیلی قابض فورسز کو نصف ملین ڈالر مالیت کے طبی اور ماحولیاتی سپلائی بیگز کا عطیہ دیا۔ اوریکل کی سیاسی لابی اس کی تکنیکی حمایت کے ساتھ مل کر کام کرتی رہے۔ گزشتہ موسم گرما میں، کیٹز نے امریکی سینیٹرز کے ساتھ ایک بند کمرہ میٹنگ میں شرکت کی تاکہ مقبوضہ علاقوں میں اسرائیل کو ہتھیاروں کی مسلسل ترسیل کی حمایت کی جائے۔

 گزشتہ سال کے آخر میں، اوریکل نے اسرائیل کے بڑے ہتھیار بنانے والے ادارے رافیل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹمز کے ساتھ اے آئی پروگرام پر شراکت کی تاکہ جنگی میدان میں فورسز کو فوری، قابل عمل منظرنامہ فراہم کیا جائے۔ جب اسرائیل نے غزہ پر بمباری اور حملہ تیز کیا تو اوریکل کے بعض ملازمین نے رپورٹ کیا کہ کمپنی فلسطینیوں کی اندرونی حمایت کو فعال طور پر روک رہی تھی۔ اوریکل کی چیریٹیبل میچنگ پروگرام نے خاموشی سے میڈیکل ایڈ فار فلسطین اور انروا جیسی تنظیموں کو فہرست سے ہٹا دیا۔ ایلیسن اور کیٹز کوئی غیر معمولی نہیں ہیں، وہ ایک وسیع تر پیٹرن کا حصہ ہیں جس میں بااثر صیہونی شخصیات امریکی سیاسی، مالی، میڈیا، تعلیمی، ٹیک اور ثقافتی اداروں میں غیر معمولی طاقت رکھتی ہیں۔ اگرچہ صرف 2 فیصد امریکی آبادی خود کو یہودی قرار دیتی ہے، لیکن امریکی اشرافیہ میں یہودی اور صیہونی نمائندگی نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ ذیل میں ان بااثر صیہونی شخصیات کی فہرست ہے جو ان شعبوں میں کلیدی عہدوں پر فائز ہیں۔

امریکی سیاست میں یہودی اثر و رسوخ
فروری 2021ء میں، سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی افتتاحی تقریب کے ایک ماہ سے بھی کم عرصے بعد، اسرائیلی روزنامہ یروشلم پوسٹ نے نئے صدر کی 15 یہودی سیاستدانوں کی تقرریوں کا جشن منایا۔ کالم نگار شلومو مائیٹل نے اخبار میں لکھا کہ "امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنی نئی انتظامیہ کے لیے ایک مضبوط، تجربہ کار ٹیم مقرر کی ہے۔ اس ٹیم میں آدھی تعداد یہودیوں کی ہے۔ مضمون میں مزید کہا گیا کہ "عالمی امور میں ایک مضبوط امریکی موجودگی، جو یہودی ٹیم کی قیادت میں ہو، اسرائیل کے طویل مدتی مفاد میں ہے۔" سیکریٹری آف سٹیٹ انتھونی بلنکن، سی آئی اے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈیوڈ کوہن، اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ، اور ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس ایورل ہینز بائیڈن انتظامیہ کے یہودی ارکان میں سے تھے جو بااثر عہدوں پر فائز تھے۔ فہرست میں چیف آف سٹاف رونالڈ کلین، آفس آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی ڈائریکٹر ایرک لینڈر، ڈپٹی ہیلتھ سیکریٹری ریچل لیوین، اور سیکریٹری آف ہوم لینڈ سیکیورٹی الیجینڈرو مایورکاس بھی شامل تھے۔

دیگر کلیدی شخصیات میں این ایس اے سائبر سیکیورٹی ڈائریکٹر این نیوبرگر، ڈپٹی سیکریٹری آف سٹیٹ وینڈی شرمین، ٹریژری سیکریٹری جینیٹ ییلن، کووڈ-19 کوآرڈینیٹر جیف زینٹس، اور سی ڈی سی ڈائریکٹر روشیل والنسکی شامل تھیں۔ سینئر اقتصادی اور سیاسی کرداروں میں جیرڈ برنسٹائن کونسل آف اکنامک ایڈوائزرز کا رکن، اور وائس پریزیڈنٹ کملا ہیرس کے شوہر ڈگلس ایمہوف بھی شامل تھے۔ سیکریٹری آف سٹیٹ کے طور پر، بلنکن غزہ نسل کشی کے ابتدائی مرحلے میں اسرائیل کے لیے امریکی حمایت کے مرکزی عوامی اور سفارتی محافظ تھے۔ انہوں نے اتحادیوں پر دباؤ ڈالنے، ہتھیاروں کی ترسیل کو تیز کرنے غزہ کے محصوریں کیلئے زمین تنگ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انسانی حقوق کی تنطیموں اور کارکنوں کے مطابق ان کی مستقل سفارتی حمایت نے اسرائیلی نسل کش اقدامات کو زیادہ عوامی امریکی ملامت سے بچایا۔ بائیڈن انتظامیہ میں اہم عہدوں پر موجود طاقتور یہودی لابی نے ایران پر پابندیوں کو سخت کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

ٹرمپ کی پہلی مدت میں بھی بہت سے یہودی اہم عہدوں پر رہے، ان کے داماد اور سینئر مشیر جیرڈ کشنر سب سے بااثر تھے، ساتھ ہی ایلیٹ ابرامز جو وینزویلا اور بعد میں ایران کے لیے خصوصی نمائندہ رہا اور اسرائیل کیلئے سابق امریکی سفیر ڈیوڈ فریڈمین بھی ٹرمپ کی پہلی مدت میں بااثر شخصیات میں شامل تھے، دیگر کلیدی شخصیات میں جیسن گرین بلیٹ فلسطین پر بین الاقوامی مذاکرات کے لیے خصوصی نمائندہ، سٹیون منوچن ٹریژری سیکریٹری، سٹیفن ملر پالیسی کے لیے سینئر ایڈوائزر، گیری کوہن وائٹ ہاؤس نیشنل اکنامک کونسل کے ڈائریکٹر، ریڈ کورڈش صدر کے اسسٹنٹ برائے انٹر گورنمنٹل اینڈ ٹیکنالوجی انیشی ایٹوز اور آوراہم برکووٹز ڈپٹی ایڈوائزر شامل تھے۔ اس کے ساتھ ہی دیگر سینئر افسران میں راڈ روزنسٹائن، ڈپٹی اٹارنی جنرل؛ ایلان کار خصوصی ایلچی، ایلی کوہانیم ڈپٹی خصوصی ایلچی، جیفری روزن اٹارنی جنرل، مورگن اورٹاگس سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ترجمان، ڈیوڈ شلکن ویٹرنز افیئرز سیکریٹری اور لارنس کڈلو نیشنل اکنامک کونسل کے ڈائریکٹر شامل تھے۔

اعلیٰ سطحی عہدوں میں ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ بھی شامل تھیں جو کرسچن تھیں لیکن 2009ء میں کشنر سے شادی کے لیے آرتھوڈوکس یہودیت میں تبدیل ہوئیں۔ نیشنل سکیورٹی کونسل جان آئزنبرگ، عزرا کوہن واٹنک نائب انڈر سیکریٹری آف ڈیفنس فار انٹیلی جنس اور لین کھودورکووسکی ڈپٹی سیکریٹری آف سٹیٹ اور ایران کیلئے خصوصی ایڈوائز بھی بااثر یہودی افسران میں شامل تھے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے کئی سینئر یہودی ارکان نے امریکی پالیسی کو اسرائیلی حکومت کے لیے انتہائی سازگار طریقے سے دوبارہ شکل دینے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ جیراڈ کشنر ابراہم معاہدے کے معمار تھے، اسی ابراہم معاہدے کے تحت عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان نے اسرائیل کیلئے اپنے دروازے کھول دئیے۔ کشنر نے ہی مغربی کنارے میں غیر قانونی آبادکاریوں کو توسیع دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ مقبوضہ علاقوں میں سفیر ڈیوڈ فریڈمین نے امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کیلئے زمین ہموار کی۔

دوسری مدت کے دوران وائٹ ہاؤس میں دوبارہ داخل ہونے کے بعد، ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے اندرونی حلقے کو واضح یہودی اور صیہونی وفاداروں سے بھر دیا، ان میں بہت سے ایسے ہیں جو فلسطینیوں سے غیر معمولی دشمنی رکھتے ہیں اور اسرائیل کی نسل کشی مہم کی حمایت کرتے ہیں۔ ان میں وائٹ ہاؤس سٹاف سیکرٹری ول شارف، وائٹ ہاؤس ڈپٹی چیف آف سٹاف فار پالیسی اینڈ ہوم لینڈ سکیورٹی ایڈوائزر سٹیفن ملر، سٹیف وٹکوف مغربی ایشیا کیلئے امریکہ کے خصوصی ایلچی، ہاورڈ لٹنک سیکریٹری آف کامرس، ٹرمپ کے ذاتی سینئر کونسل بورس ایپشٹائن، ریپبلکس پارٹی کی ترجمان الزبتھ پپکو، لی زیلڈن ایڈمنسٹریٹر آف دی انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی؛ اور لارا لومر ایک انتہا پسند انفلوئنسر جو ٹرمپ کے سیاسی حلقے میں غیر سرکاری وفاداری انفورسمنٹ کے طور پر کام کرتی ہے۔ ایوانکا ٹرمپ اور ان کے شوہر ٹرمپ کی 2024ء مہم سے زیادہ تر غائب رہے اور دو سال پہلے اعلان کیا کہ وہ ٹرمپ کی حمایت "سیاسی دائرے سے باہر" کریں گے۔

ٹرمپ کی دوسری صدارت کے دوران ابراہم معاہدے کے مرکزی کردار جیراڈ کشنر سعودی عرب، یو اے ای اور قطر کے ذریعے اربوں ڈالر کا پرائیویٹ ایکویٹی فنڈ چلا رہے ہیں۔ صیہونی ڈونرز نے ٹرمپ کی 2024ء کی صدارتی مہم کیلئے بھاری فنڈنگ فراہم کی۔ ارب پتی مریم ایڈلسن، جن کی دولت کا تخمینہ 35 ارب ڈالر ہے، نے ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس واپس لانے کے لیے 100 ملین ڈالر سے زیادہ خرچ کیے۔ وہ شیڈن ایڈلسن کی بیوہ ہیں، جو تاریخ کے سب سے زیادہ غیر قانونی اسرائیلی آبادکاریوں کے فنانسر تھے۔ وہ نیو صیہونزم کی آئیڈیالوجی سے قریب سے منسلک ہیں، جو نہ صرف مقبوضہ فلسطین بلکہ پڑوسی ممالک کے الحاق کے ذریعے قبضے کی توسیع کی وکالت کرتی ہے۔

آئیوی لیگ(Ivy League) کی صدارت۔ (یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کا کنٹرول)
آئیوی لیگ شمال مشرقی امریکہ میں واقع آٹھ اشرافیہ کی نجی یونیورسٹیوں کا گروپ ہے۔ ان میں براؤن، کولمبیا، کارنل، ڈارٹ موتھ، ہارورڈ، پرنسٹن، یونیورسٹی آف پنسلوانیا اور ییل شامل ہیں۔ فی الحال، ان میں سے پانچ جامعات کی قیادت یہودی صدر کر رہے ہیں۔ ان یونیورسٹیوں میں یہودی اور صیہونی اثر و رسوخ اس وقت کھل کر سامنے آیا جب پورے امریکہ میں یونیورسٹیوں کے طلباء نے غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی کیخلاف احتجاج کیا۔ کرسٹوفر لڈوگ ایسگریبر، ایک یہودی نژاد امریکی جو جولائی 2013ء سے پرنسٹن یونیورسٹی کے 20 ویں صدر ہیں، نے کینن گرین پر ایک بڑے فلسطینی نواز کیمپ کو ہٹانے کا حکم دیا۔ جس کے بعد اپریل 2024ء میں پولیس نے فلسطین نواز احتجاج کے دوران درجنوں طلباء کو گرفتار کیا۔ ایلن گاربر، ایک اور یہودی اکیڈمک لیڈر، اگست 2024ء میں ہارورڈ یونیورسٹی کے صدر مقرر ہوئے جبکہ جنوری 2 سے عبوری صدر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہوں نے کلوڈین کی جگہ لی جو کانگریس ارکان کی طرف سے فلسطین نواز احتجاج کے دوران ہارورڈ کیمپس پر "اینٹی سیمیٹزم" کا مناسب مقابلہ نہ کرنے کے الزامات کے بعد استعفیٰ دینے پر مجبور ہوئیں۔

گاربر کی قیادت میں، ہارورڈ نے یو ایس ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی کی درخواست پر بین الاقوامی طلباء کے ڈسپلنری ریکارڈز اور فلسطینی نواز سرگرمیوں کے ریکارڈز شیئر کیے۔ سیان لیہ بیلوک، ڈارتموتھ (Dartmouth) کالج کی صدر، آئیوی لیگ میں ایک اور یہودی لیڈر ہیں۔ انہیں گزشتہ سال (2024ء) مئی 1 کو کیمپس پر فلسطینی نواز احتجاج کو توڑنے کے لیے پولیس بلانے کے فیصلے پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ کارنیل یونیورسٹ کے صدر مائیک کوٹلیکوف بھی یہودی ہیں۔ کوٹلیکوف نے مارتھا پولک کی جگہ لی جو یہودی بھی تھیں اور امریکی کالج کیمپسز میں وسیع فلسطین حامی مظاہروں کے دوران استعفیٰ دیا۔ اسی طرح کرسٹینا پیکسن، جو شادی کے بعد یہودیت میں تبدیل ہوئیں، براؤن یونیورسٹی کی صدر ہیں۔

ہالی ووڈ
امریکی سیاست کے ساتھ ساتھ ہالی ووڈ بھی پنجہ یہود میں قید ہے۔ حالانکہ یہودی امریکی آبادی کا صرف 2 فیصد ہے تاہم ہالی ووڈ کے کلیدی کرداروں بشمول سٹوڈیو ایگزیکٹیوز، رائٹرز اور ایکٹرز میں یہودی چھائے ہوئے ہیں۔ یہودی کاروباریوں نے ہالی ووڈ کے "گولڈن ایج" کے دوران زیادہ تر بڑے فلم سٹوڈیوز کی بنیاد رکھی۔ ان شخصیات میں ایڈولف زکور، پیراماؤنٹ پکچرز کے بانی؛ ولیم فاکس، فاکس فلم کارپوریشن کے بانی؛ لوئس بی مایر اور مارکس لوئی، میٹرو گولڈ وِن مایر (ایم جی ایم) کے شریک بانی؛ ہیری، البرٹ، سیم اور جیک وارنر، وارنر بروس کے بھائی؛ کارل لیملے، یونیورسل پکچرز کے بانی؛ ہیری اور جیک کوہن، کولمبیا پکچرز کے بانی شامل ہیں۔ حالیہ دہائیوں میں، نمایاں یہودی ایگزیکٹوز نے انڈسٹری میں بااثر عہدے برقرار رکھے ہیں۔ ان میں باب آئیگر، دی والٹ ڈزنی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر؛ ایڈم ایرون، اے ایم سی انٹرٹینمنٹ کے سی ای او؛ جان فیلتھائمر، لائنزگیٹ کے سی ای او؛ شاری ریڈسٹون، نیشنل ایمیوزمنٹس کی صدر اور سی ای او؛ ڈیوڈ زاسلاو، وارنر بروس ڈسکوری کے سی ای او؛ اور بااثر فلم پروڈیوسر اور سابق سونی پکچرز ہیڈ ایمی پاسکل شامل ہیں۔

گزشتہ کئی سالوں سے امریکہ کے بعض ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ طاقت کا یہ غلبہ انڈسٹری کی نئی شکل کو جنم دیتا ہے جو اکثر صیہونی بیانئے سے ہم آہنگ ہوتی ہے، صیہونی جرائم کو دھونے اور فلسطینی نقطہ نظر کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ہالی ووڈ کے باثر یہودیوں نے 20 صدی کے اواخر سے اپنی طاقت کو صیہونی منصوبے کیلئے ثقافتی حمایت متحرک کرنے کیلئے استعمال کیا، ابتدائی فلموں اور تھیٹر پروڈکشنز میں آبادکاروں کے تشدد کو "یہودی دفاع" کے طور پر پیش کیا۔ صیہونی حلقہ اثر کی وجہ سے فلسطینی فلمیں اکثر بڑے فیسٹیولز اور سٹریمنگ پلیٹ فارمز سے خارج ہوتی ہیں، جبکہ اسرائیلی مظالم کو اکثر ایسے طریقے سے فریم کیا جاتا ہے جو فلسطینی تکالیف کو کم یا چھپاتا ہے۔ یہاں تک کہ فلسطین سے متعلق فلمیں اور دستاویزی فلمیں انڈسٹری میں مسلسل تنازعات کا شکار ہوتی ہیں۔

ٹاپ 50 ارب پتی
دنیا کے امیر ترین افراد کی تازہ ترین رینکنگ ایک نمایاں رجحان کو اجاگر کرتی ہے، ٹاپ 50 ارب پتیوں میں سے کم از کم 12 یہودی ہیں، جو ٹیکنالوجی، فنانس اور سرمایہ کاری میں ان کی نمایاں اثر و رسوخ کو ظاہر کرتے ہیں۔ ان میں اوریکل کے شریک بانی لیری ایلیسن، جن کی دولت 213.

7 ارب ڈالر ہے، اور وہ دنیا کے تیسرے امیر ترین شخص ہے۔ میٹا پلیٹ فارم کے سی ای او جس میں فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ شامل ہیں، 202.4 ارب ڈالر کی دولت کے ساتھ دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے۔ گوگل کے شریک بانی لیری پیج اور سرگئی برن بالترتیب چھٹے اور ساتویں نمبر پر ہیں، جن کی دولت 157.8 ارب اور 150.7 ارب ڈالر ہے۔ ٹاپ 50 میں دیگر نمایاں یہودی ارب پتیوں میں مائیکروسافٹ کے سٹیف بالمر (127.7 ارب ڈالر، رینک 9)، ڈیل ٹیکنالوجیز کے مائیکل ڈیل (113.5 ارب ڈالر، رینک 12)، اور مائیکل بلومبرگ، بلومبرگ ایل پی (104.7 ارب ڈالر، رینک 16) شامل ہیں۔ سٹیفن شوارزمین، سرمایہ کاری میں بڑی شخصیت 50.4 ارب ڈالر کے ساتھ 28 ویں نمبر پر، جبکہ ٹریڈنگ اور سرمایہ کاری سے وابستہ جیف یاس 49.6 ارب ڈالر کے ساتھ۔ 29 ویں نمبر پر ہے۔

لگژری فیشن انڈسٹری سے وابستہ جیرارڈ ویرتھائمر اور ایلین ویرتھائمر دونوں 41.5 ارب ڈالر کے ساتھ مشترکہ طور پر 38 ویں نمبر پر ہیں۔ کیسینو انڈسٹری سے منسلک مریم ایڈلسن اینڈ فیملی 34 ارب ڈالر کے ساتھ 49 ویں نمبر پر ہے۔ یہودی ملکیت میں موجود ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیاں عالمی بیانئے کو نئی شکل دینے کی کوشش کرتی ہیں، دولت سے زیادہ ان کی طاقت فلسطینیوں کیلئے تباہ کن ثابت ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر میٹا اور اوریکل جیسی کمپنیاں فلسطینی آوازوں کو سنسر کرنے میں ملوث ہیں، یہ کمپنیاں اسرائیلی پالیسیوں کے حق میں بیانیہ بنانے اور ان سے اختلاف کو خاموش کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ اسی طرح گوگل، مائیکروسافٹ اور ڈیل ٹیکنالوجیز نے اسرائیلی فوج کی غزہ پر گزشتہ دو سالوں کی نسل کش جنگ کو ممکن بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا، ان کمپنیوں کی طرف سے صیہونی حکومت کو کلاؤڈ انفراسٹرکچر، اے آئی اور ٹیکنالوجی سروسز فراہم کی جاتی رہیں جو صیہونی حکومت نے فلسطینی شہریوں کو ہدف بنانے کے لیے استعمال کیں۔ 

کھیلوں کی ٹیموں کے مالکان
 امریکی پروفیشنل کھیلوں کی بڑی لیگز میں ملکیت کے پیٹرن ایک چھوٹے گروپ کے پاس طاقت کی حیرت انگیز حد تک ارتکاز کو ظاہر کرتے ہیں جو انتہائی امیر یہودی اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل ہے۔ ان میں سے بہت سے کھلے عام صہیونیت پسند سیاسی موقف رکھتے ہیں یا فلسطینی حمایت کے خلاف پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں۔ نیشنل باسکٹ بال ایسوسی ایشن (این بی اے) میں تخمینوں کے مطابق تقریباً 40 فیصد فرنچائزز یہودی پس منظر والے افراد یا گروپوں کی اکثریتی ملکیت میں ہیں جو ان کی تقریباً 2 فیصد امریکی آبادی کے تناسب سے کہیں زیادہ ہے۔ اضافی پانچ ٹیموں میں یہودی اقلیتی اسٹیک ہولڈرز شامل ہیں، جو لیگ گورننس اور سیاسی پوزیشننگ میں ملکیت سے آگے اثر و رسوخ کو اجاگر کرتے ہیں۔ 30 این بی اے ٹیموں میں سے 12 یہودی اسٹیک ہولڈرز کی اکثریتی ملکیت میں ہیں۔ ان میں انتھونی ریسلر (اٹلانٹا ہاکس)؛ گیب پلوٹکن اور رک شنال (شارلوٹ ہارنیٹس)، جیری رینسڈورف (شکاگو بلز)، ڈین گلبرٹ (کلیولینڈ کیویلیئرز)، مریم ایڈلسن (ڈلاس میوریکس)، جو لاکوب اور پیٹر گوبر (گولڈن سٹیٹ واریئرز)، ہربرٹ سائمن (انڈیانا پیسرز)، مکی ایرسن (میامی ہیٹ)، مارک لور (مینیسوٹا ٹمبر وولوز)، سٹیف بالمر (لاس اینجلس کلپرز)، جوشوا ہیرس اور ڈیوڈ بلٹزر (فلاڈیلفیا 76)، اور میٹ اور جسٹن اشبیا (فینکس سنز) شامل ہیں۔

دوسری طرف یہودی اقلیتی مالکان والی ٹیموں میں جیکبز فیملی (سیکرامینٹو کنگز)، لاری ٹیننبام (ٹورنٹو ریپٹرز)، جارج کیسر (اوکلاہوما سٹی تھنڈر)، اولیور ویسبرگ (بروکلین نیٹس)، اور لاری فنک (نیویارک نکس) شامل ہیں۔ چالیس سالوں سے، این بی اے صرف دو کمشنرز ڈیوڈ سٹرن (1984–2014ء) اور ایڈم سلور (2014ء سے تاحال) کی قیادت میں رہی۔ 2017ء میں، این بی اے نے اسرائیل کے سپورٹس منسٹر کی شکایت کے بعد اپنی آفیشل ویب سائٹ کی فہرست سے "فلسطین، مقبوضہ علاقہ" کو ہٹا دیا۔ ایک سال بعد، لیگ نے آل سٹار گیم کے لیے فین ووٹنگ لسٹ میں "مقبوضہ فلسطین" شامل ہونے کے بعد معافی مانگی، اسرائیلی افسران کے مطالبے کے بعد ایک آؤٹ سورس فرم کو مورد الزام ٹھہرایا گیا۔ دریں اثنا، فلسطینیوں سے یکجہتی کا اظہار کرنے والے کھلاڑیوں کو فوری تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔سابق این بی اے سٹار ڈوائٹ ہاورڈ نے کہا کہ انہیں 2014ء میں "فری فلسطین" ٹویٹ ڈیلیٹ کرنے پر دباؤ ڈالا گیا جب انہیں متعدد کالز موصول ہوئیں، بشمول کمشنر آفس سے بھی۔ یہودیوں کا سیاسی اثرورسوخ اور ملکیت باسکٹ بال تک محدود نہیں۔ نیشنل فٹ بال لیگ (این ایف ایل) میں، لیگ کی 32 ٹیموں میں سے 11 ٹیموں کی ملکیت یہودی سٹیک ہولڈرز کے پاس ہے۔

ان میں آرتھر بلینک (اٹلانٹا فالکنز)، ڈیوڈ ٹیپر (کیرولائنا پینتھرز)، جم ارسے (انڈیاناپولس کولٹس)، مارک ڈیوس (لاس ویگاس ریڈرز)، سٹیفن راس (میامی ڈولفنز)، ولف فیملی (مینیسوٹا وائکنگز)، رابرٹ کرافٹ (نیو انگلینڈ پیٹریاٹس)، سٹیف ٹیش (نیویارک جائنٹس)، جیفری لوری (فلاڈیلفیا ایگلز)، گلیزر فیملی (ٹمپا بے بکیئنیئرز)، جوش ہیرس اور مچل ریلیس (واشنگٹن کمانڈرز) شامل ہیں۔ میجر لیگ بیس بال (ایم ایل بی) میں بھی ملتے جلتے پیٹرن ہیں۔ اس کی 32 ٹیموں میں سے 8 یہودی اسٹیک ہولڈرز کی اکثریتی ملکیت میں ہیں جن میں ڈیوڈ روبنسٹائن (بالٹیمور اوریولز)، جیری رینسڈورف (شکاگو وائٹ ساکس)، بروس شرمین (میامی مارلنز)، مارک اٹاناسیو (ملواکی بریورز)، سٹیف کوہن (نیویارک میٹس)، فشر فیملی (اوکلینڈ ایتھلیٹکس)، سٹوارٹ سٹرنبرگ (ٹمپا بے ریز)، اور لرنر فیملی (واشنگٹن نیشنلز) شامل ہیں۔ چھ اضافی ٹیموں میں یہودی اقلیتی مالکان یا ایگزیکٹوز ہیں، بشمول ٹام ورنر (بوسٹن ریڈ ساکس)، ڈیوڈ بلٹزر (کلیولینڈ گارڈینز)، سٹین کیسٹن اور پیٹر گوبر (لاس اینجلس ڈاجرز)، اور لیسٹر کراؤن (نیویارک یانکیز)۔ کئی ٹیموں جن کی اکثریتی یہودی ملکیت نہیں ہے تاہم ان کے صدر یا سینئر ایگزیکٹیوز یہودی ہیں، ان میں نیویارک یانکیز، سان فرانسسکو جائنٹس، لاس اینجلس ڈاجرز اور ٹورنٹو بلیو جیز—یہودی صدر یا سینئر ایگزیکٹوز شامل ہیں۔ 

فیڈرل ریزرو
کھیلوں اور انٹرٹینمنٹ سے آگے، یہودی فنانسرز نے امریکی مالی طاقت کے ڈھانچوں میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ جرمن یہودی بنکر پال موریٹز واربرگ امریکہ کے فیڈرل ریزرو سسٹم کے کلیدی معمار تھے۔ 1987ء سے 2014ء تک، فیڈرل ریزرو کی قیادت مسلسل ایلن گرینسپن، بین برنانکی اور جینیٹ ییلن تین یہودی افراد نے سنبھالی جو وال سٹریٹ کو غیر متناسب فائدہ پہنچاتے جبکہ امریکہ کے عالمی غلبے کو مضبوط کرتے۔ دیگر بااثر یہودی شخصیات میں ایمانوئل گولڈن ویزر شامل ہیں، جنہوں نے ابتدائی فیڈرل ریزرو بورڈ آپریشنز کی نگرانی کی۔ سٹینلی فشر بھی ایک نمایاں یہودی شخصیت ہیں جو بعد میں وائس چیئرمین رہے۔

میڈیا، ایڈورٹائزنگ، انٹرٹینمنٹ
امریکی یہودیوں نے میڈیا، ایڈورٹائزنگ اور پبلک ریلیشنز انڈسٹریز کے وسیع سپیکٹرم میں بھی اثر رکھا ہے، جو سیاسی بیانیوں کو شکل دینے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ ایڈورٹائزنگ اور پبلک ریلیشنز کی دنیا میں بااثر یہودی ایگزیکٹوز میں رچرڈ ایڈلمین، عالمی پی آر فرم ایڈلمین کے سی ای او؛ کارل اسپیل ووگل، بڑی ایجنسی بیکر اینڈ اسپیل ووگل کے شریک بانی؛ رون ٹوروسیان، 5 ڈبلیو پبلک ریلیشنز کے بانی؛ اور ماریان سالزمین، سینئر ایڈورٹائزنگ اور کمیونیکیشن ایگزیکٹو اور ٹرینڈ ایکسپرٹ شامل ہیں۔ٹوروسیان، ایک امریکی پبلک ریلیشنز ایگزیکٹو، صیہونی تحریک میں ایک نمایاں اور متنازع شخصیت ہیں، جو حال ہی میں دوبارہ لانچ ہونے والی پی ٹی آر یو ایس اے تنظیم کی قیادت کے لیے مشہور ہیں۔ ٹوروسیان کی قیادت میں بی ٹی آر یو ایس اے نے اشتعال انگیز بیانات اور تشدد کی کال دی۔ اسرائیلی نسل کش جنگ میں شہید ہونے والے فلسطینی بچوں پر ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے جواب میں، گروپ کے اکاؤنٹ نے کمنٹ کیا، "ناکافی، ہم غزہ میں خون کا مطالبہ کرتے ہیں"

بی ٹی آر فلسطینی نواز مظاہرین کی فہرستیں تیار کرنے اور ملک بدر کرنے میں ملوث رہی ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی صیہونی حکومت کے وفادار یہودیوں کا غلبہ ہے۔ امریکی بزنس ایگزیکٹو سوزن وجکیکی 2014ء سے 2023ء تک یوٹیوب کی چیف ایگزیکٹو آفیسر رہیں۔ انسانی حقوق گروپوں نے مسلسل فلسطینی آوازوں کیخلاف واضح تعصب پر مبنی یوٹیوب کی پالیسیوں کی مذمت کی ہے۔ نومبر 2015ء میں، ووجکیکی اور دیگر گوگل نمائندوں نے اسرائیلی ڈپٹی فارن منسٹر ٹزیپی ہوٹوویلی سے ملاقات کی تاکہ صیہونی حکومت کی طرف سے "اشتعال انگیز" قرار دیے جانے والے فلسطینی مواد کی نگرانی اور ہٹانے کا میکانزم تیار کیا جائے۔ امریکہ میں صیہونی اور یہودی اثر و رسوخ کی یہ ایک چھوٹی سی جھلک ہے، کل ملا کر دیکھا جائے تو امریکہ منظرنامہ کوئی اتفاق نہیں، بلکہ یہودی سیاسی طاقت، کارپوریٹ کنٹرول، ثقافتی اثر کا ایسا جال ہے جو مسلسل صیہونی مظالم کو جوابدہی سے بچاتا اور فلسطینی آوازوں کو دباتا ہے۔
(بشکریہ پریس ٹی وی)

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امریکی صدر جو بائیڈن سیکریٹری آف سٹیٹ ارب ڈالر کے ساتھ کردار ادا کیا اسٹیک ہولڈرز فلسطینی نواز صیہونی حکومت پبلک ریلیشنز کی قیادت میں کے شریک بانی نے اسرائیلی فیڈرل ریزرو انتظامیہ کے ویں نمبر پر کے سی ای او کی اکثریتی اور صیہونی نے اسرائیل اسرائیل کی اسرائیل کے امریکہ میں شخصیات میں وائٹ ہاؤس امریکہ کے نے امریکی ٹیموں میں میں بااثر میں یہودی اوریکل کے ملکیت میں اوریکل نے اوریکل کی کے طور پر کی نسل کش شامل تھے کے دوران ہالی ووڈ کی حمایت کرتے ہیں سے زیادہ شامل ہیں میں بھی میں ایک ٹرمپ کی کی دولت کے بانی کرنے کے اور یہ کے بعد کے لیے ٹک ٹاک اور ان اور سی ہیں جو

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان