سیکیورٹی فورسز کی بنوں اور کرم میں کارروائیاں، 13 دہشت گرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
سیکیورٹی فورسز نے 13 اور 14 جنوری کو خیبر پختونخوا کے اضلاع بنوں اور کرم میں دو انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 13 خوارج کو ہلاک کر دیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر سکیورٹی فورسز نے ضلع بنوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، آپریشن کے دوران فورسز نے خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 8 خوارج مارے گئے۔
ایک اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ضلع کرم میں کیا گیا جہاں فائرنگ کے تبادلے کے دوران 5 خوارج کو مؤثر کارروائی میں ہلاک کر دیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں کسی بھی ممکنہ طور پر موجود بھارتی سرپرستی یافتہ خوارج کے خاتمے کے لیے کلیئرنس اور سرچ آپریشنز جاری ہیں۔
قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ وژن ’’عزمِ استحکام‘‘ کے تحت پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک انسدادِ دہشت گردی مہم جاری رکھیں گے، ملک سے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے سکیورٹی فورسز ہر قیمت پر کارروائیاں جاری رکھیں گی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے 13 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کی پزیرائی کی ہے اور کہا ہے کہ عزم استحکام کے ویژن کے تحت سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف بڑی کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں، پوری قوم دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں پاکستان کی افواج کے ساتھ کھڑی ہے، ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے
پڑھیں:
سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
حکومتِ پنجاب نے سیکیورٹی خدشات(security risk) کے پیشِ نظر دفعہ 144 کے تحت پنجاب بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر عائد پابندی میں مزید 30 دن کی توسیع کر دی۔
اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کھلے مقامات پر ڈرون کے استعمال پر پابندی برقرار رہے گی۔
مزید پڑھیں:واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کے دوران چھوٹے ڈرونز کے محدود استعمال کی اجازت ہو گی تاہم اندرونی تقریبات میں ڈرون کے محفوظ استعمال کی ذمے داری منتظمین پر عائد ہو گی۔