Jang News:
2026-07-24@00:23:22 GMT

پاکستان نے بھارتی آرمی چیف کے الزامات مسترد کر دیے

اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT

پاکستان نے بھارتی آرمی چیف کے الزامات مسترد کر دیے

—فائل فوٹو

پاکستان نے بھارتی آرمی چیف کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دہشت گردی کے الزامات سیاسی مقاصد کے لیے گھڑی گئی من گھڑت کہانی قرار دے دیے۔

اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ بھارتی آرمی چیف کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہیں، پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف قربانیاں عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے دہشت گردی کے الزامات سیاسی مقاصد کے لیے گھڑی گئی من گھڑت کہانی ہیں، بھارتی بیان بازی پرانی، روایتی اور گمراہ کن ہے، پاکستان کے خلاف بھارتی الزامات خود بھارت کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

پاکستان کا بھارتی قومی سلامتی کے مشیر کے تاریخ کا بدلہ لینے سے متعلق بیان پر اظہار تشویش

بھارتی این ایس اے کے بیان سے متعلق رپورٹس دیکھی ہیں، نفرت پر مبنی ایسے بیانات کسی طور حیران کن نہیں: ترجمان دفتر خارجہ

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارتی نیوی کے حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو کی گرفتاری ہمارے سامنے ہے۔ افغانستان سمیت خطے میں بھارت کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورکس کی نشاندہی کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے ماورائے عدالت قتل اور ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کی مثالیں ریکارڈ پر ہیں، پاکستان نے بھارت کو اشتعال انگیز بیانات سے باز رہنے کا مشورہ دیا، بھارت میں بڑھتا ہوا انتہاپسندانہ اور مذہبی بنیادوں پر تشدد خطے کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو مہذب بین الریاستی رویوں کی پابندی کرنے کا مشورہ دیا گیا، پاکستان نے کہا غیرذمہ دارانہ الزامات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: کے الزامات پاکستان نے کہ بھارت نے کہا

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار