ہاکی اولمپئنز کا فیلڈ مارشل اور وزیراعظم سے قومی کھیل کو بچانے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
ہاکی اولمپئنز نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر سے قومی کھیل کو بچانے کا مطالبہ کیا ہے۔
کراچی پریس کلب میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پی ایچ ایف پر ایسے عناصر قبضہ جما چکے ہیں جن کو باضابطہ طور پر بد عنوان قرار دیا گیا،قومی ہاکی کو بچانے کے لیے ایسے عناصر کے خلاف درست سمت میں تحقیقات کر کے ذمہ داروں کو عبرت کا نشانہ بنایا جائے۔
رکن قومی اسمبلی سیدہ شہلا رضا اور ہاکی اولمپینز نے وزیر اعظم میاں شہباز شریف سے درخواست کی ہے کہ قومی کھیل کو بچانے کے لیے فوری طور پر پاکستان ہاکی فیڈریشن پر ایڈہاک لگا کر فوری طور پر صاف اور شفاف انداز میں انتخابات کرائے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ پی ایس بی نے یو ٹرن لیتے ہوئے پی ایچ ایف کو ہی فیڈریشن کے انتخابات کرانے کی ذمہ داری سونپ دی ہے، پورٹل کے ذریعے کلبز کی رجسٹریشن کو تسلیم نہیں کرتے،کسی بھی غیر قانونی انتخابی عمل کو تسلیم نہیں کیا جائے گا، بھرپور احتجاج کرتے ہوئے ہر قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرنے والوں میں اولمپین سمیع اللہ خان، کلیم اللہ خان، حنیف خان، ایاز محمود، ناصر علی، افتخار سید، فیڈریشن کے سابق سیکریٹری انٹرنیشنل حیدر حسین اور پرویز اقبال سمیت دیگر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہاکی کے زوال کی وجوہات میں ایک بڑی وجہ فیڈریشن پر غیر قانونی طور پر بدعنوان عناصر کا قبضہ ہے، ان عناصر کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔
سیدہ شہلا رضا نے کہا کہ 2022 میں وزیراعظم کی ہدایت پر ہاکی فیڈریشن کے معاملات کے لیے دو کمیٹیاں بنائی گئی تھیں، ان کمیٹیوں کا کام ہاکی فیڈریشن کی مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت کے چیئرمین سینٹ ایاز صادق کی نگرانی میں کام کرنے والی کمیٹی نے 500 پیراگراف کی نشاندہی کی، وزیراعظم نے 113 پیرا کو تحقیقات کے لئے ایف آئی اے کو بھیجنے کی ہدایت کی، وزیراعظم نے کمیٹی کو فیڈریشن کے انتخابات کی بھی ہدایت کی نگران وزیراعظم نے طارق میسوری بگٹی کو ہاکی فیڈریشن کا ایڈ ہاک صدر بنایا گیا۔
شہلا رضا نے کہا کہ نگراں وزیراعظم نے نامزد صدر طارق بگٹی کو فیڈریشن کے انتخابات اور 113 پیراز کی تحقیات کا مینڈیٹ دیا، نگران وزیراعظم نے 16 اگست 2023 کے بعد 22 دسمبر کو ایک خط کے ذریعے طارق بگٹی کو ایک بار پھر انتخابات کا ٹاسک دیا، فیڈریشن کے روز مرہ کے امور کے لیے کمیٹی بنائی گئی لیکن کمیٹی کا ایک اجلاس بھی نہیں ہوا۔
طارق بگٹی نے فیڈریشن کے عہدیداروں اور بے ضابطگی میں ملوث سابق عہدیداروں کے نام ایک سی ایل میں ڈالنے کے لیے بھیجے۔
پی ایچ ایف کے صدر طارق بگٹی نے اپنے احکامات پر یو ٹرن لے لیا، پاکستان اسپورٹس بورڈ کو ہاکی فیڈریشن کی کوئی فکر نہیں، پی ایس بی نے 31 ویں اجلاس میں فیڈریشنز کے انتخابات خود کرانے کا اعلان کیا، 25 جولائی 2025 کو پی ایس بی نے اپنا الیکشن کمیشن بنانے کے باوجود ہاکی فیڈریشن کے انتخابات نہیں کروائے۔
انہوں نے کہا کہ پی ایس بی نے ہاکی فیڈریشن کے معاملات پر شدید تحفظات کے باوجود کوئی کاروائی نہیں کی، اٹارنی جنرل آف پاکستان نے طارق بگٹی کو ہاکی فیڈریشن کا نامزد صدر قرار دیا ہے، اسٹینڈنگ کمیٹی نے پی ایس بی کو دو ماہ میں انتخابات کرانے کی ہدایت کی،اسپیشل کمیٹی کے مندرجات اسٹینڈنگ کمیٹی میں آنے سے پہلے فیڈریشن نے انتخابات کا عمل شروع کر کے اچانک پورٹل کھولنے اور کلب رجسٹریشن کا اعلان کردیا۔
طارق بگٹی نے کہا کہ 16 دسمبر 2025 کو اسپورٹس بورڈ نے ہاکی فیڈریشن کو الیکشن کے مراحل روکنے کا حکم دیا،6 جنوری 2026 کو اچانک فیڈریشن کو پورٹل کے ذریعے کلب رجسٹریشن اور اسکروٹنی 16 جنوری تک مکمل کرکے 22 جنوری کو رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کردی گئی۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہاکی فیڈریشن نے ہی انتخابات کرانا تھا تو اسٹینڈنگ کمیٹی کی کاروائی کی کیا ضرورت ہے، پاکستان اسپورٹس بورڈ نے الیکشن کمیشن کیوں بنایا، ڈی جی اسپورٹس بورڈ نے تمام قوانین کی دھجیاں بکھیر دیں، خود ساختہ سیکریٹری رانا مجاہد کے خط کے مطابق اسکروٹنی اور رجسٹریشن کے لیے سب کو خط لکھا،پی ایس بی نے رانا مجاہد کو اپنا لاڈلا قرار دیکر اس کے اقدامات کو درست قرار دیدیا۔
طارق بگٹی نے کہا کہ قومی خزانے کے ساتھ ہاکی فیڈریشن کو نقصان پہنچایا جارہا ہے ،وزیراعظم ہاکی فیڈریشن پر ایڈہاک لگاکر اچھی شہرت والے کھلاڑیوں میں سے کسی ایک کو نگراں نامزد کرکے صاف اور شفاف انتخابات کرانے کے احکامات صادر کریں،ہم ہاکی فیڈریشن کے انتخابات کو نہیں مانتے،ہاکی فیڈریشن کے تحت انتخابات کے خلاف ہر قانونی مزاحمت کی جائے گی۔
سابق قومی کپتان اولمپئن ناصر علی نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر حقائق سے آگاہ ہیں،فیلڈ مارشل نے کور کمانڈر کراچی کو ہاکی کے حوالے سے ہدایت دی ہے،ڈی جی اسپورٹس بورڈ کو اپنے عہدے سے فارغ کیا جائے۔
سابق قومی کپتان اولمپئن سمیع اللہ خان نے کہا کہ کھلاڑیوں کے مسائل حل کیے جائیں، ڈیلی الاؤنس نی ملنے کی وجہ سے کھلاڑی مشکلات کا شکار ہیں۔
سابق قومی کپتان اولمپئن حنیف خان کا کہنا تھا کہ حکومت اہل ہوتی تو آج بدعنوان لوگ ہاکی فیڈریشن کے عہدوں پر فائز نہیں ہوتے،وزیراعظم سوچیں کن کی ہدایت پر بدعنوان لوگ بیٹھے ہیں ،ہم سب کی پہچان ہاکی ہے، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل ہاکی کو بچائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فیڈریشن کے انتخابات ہاکی فیڈریشن کے انہوں نے کہا کہ اسپورٹس بورڈ طارق بگٹی نے پی ایس بی نے فیلڈ مارشل کی ہدایت کو بچانے بگٹی کو کو ہاکی کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔