واشنگٹن:

امریکا نے حالیہ فسادات اور ہنگائی آرائی کے دوران مظاہرین پر تشدد کے الزام میں علی لاریجانی سمیت 5 اعلیٰ حکام پر پابندی عائد کردی اور خبردار کیا ہے کہ ایرانی قیادت کے فنڈز کا سراغ لگا رہے ہیں جو دنیا بھر کے بینکوں میں منتقل کیے جا رہے ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران میں مظاہرین پر کریک ڈاؤن میں ملوث 5 حکام پر پابندی عائد کردی گئی ہے، جس میں سپریم کونسل برائے نیشنل سیکیورٹی، پاسداران انقلاب اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کمانڈرز شامل ہیں اور انہیں کریک ڈاؤن براہ راست ملوث قرار دیا گیا ہے۔

امریکی پابندی کی زد میں آنے والوں میں سیکریٹری سپریم کونسل برائے نیشنل سیکیورٹی علی لاریجانی اور دیگر سیکیورٹی کمانڈرز محمد رضا ہاشمی فر، نعمت اللہ باقری، عزیز اللہ ملکی اور ید اللہ بوعلی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکا کی پابندیوں میں ایران کے شیڈو بینکنگ نیٹ ورک کے 18 افراد اور ادارے بھی شامل ہیں، متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور سنگاپور میں قائم فرنٹ کمپنیاں بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ مذکورہ افراد پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ شیڈوبینکنگ نیٹ ورک کے ساتھ ساتھ ایرانی تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی غیر ملکی منڈیوں میں فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو منی لانڈرنگ کے ذریعے چھپانے میں ملوث تھے۔

امریکی سیکریٹری خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ویڈیو پیغام میں بتایا کہ امریکا کا ایران کے رہنماؤں کو واضح پیغام ہے کہ امریکی وزارت خزانہ جانتا ہے جیسا کہ ڈوبتے ہوئے جہاز سے بھاگتے چوہے، آپ ایرانی خاندانوں سے لوٹی گئی رقم گھبراہٹ میں دنیا بھر کے بینکوں اور مالیاتی اداروں میں منتقل کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یقین رکھیں ہم اس کا اور تمہارا بھی سراغ لگائیں گے لیکن اس کے لیے تھوڑا وقت ہے، اگر ہمارے ساتھ شریک ہونے کا انتخاب کیا تو جیسا کہ صدر ٹرمپ نے کہا تھا ہنگامہ آرائی روک کر ایرانی عوامی کے ساتھ کھڑے ہوں۔

امریکی سیکریٹری خزانہ نے کہا کہ امریکا مکمل طور پر ایرانی عوام کی آزادی اور انصاف کے لیے اٹھنے والی آواز کے ساتھ کھڑا ہے اور محکمہ خزانہ ایرانی حکومت کے ظالمانہ انسانی حقوق کی پامالی کے پس پردہ عناصر کو نشانہ بنانے کے لیے ہر ممکن ذریعہ استعمال کرے گا۔

واضح رہے کہ امریکا کی جانب سے ایران پر عائد یہ پابندیاں ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد پہلا اقدام ہے جو ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: شامل ہیں کے لیے

پڑھیں:

ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ

امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔

امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔

ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔

مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔

انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔

مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔

ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو

امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان