اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے پالیسیوں میں تسلسل پر زور دیتے ہوئے تمام متعلقہ فریقین سے کہا ہے کہ وہ معاشی استحکام کے حصول اور عالمی برادری میں پاکستان کا نمایاں مقام بنانے کےلئے مزید محنت کریں۔ نائب وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار بدھ کو یہاں ”پاکستان پالیسی ڈائیلاگ“سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے جب باگ ڈور سنبھالی تو اسے ایک شدید معاشی عدم توازن ورثے میں ملا جس پر واحد ترجیح پاکستان کے طویل المدتی مفادات کو بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مشکل فیصلے کئے گئے اور سیاسی آسانیوں کو ایک طرف رکھ کر ذمہ داری کو ترجیح دی گئی۔ اصلاحات اب واضح سمت اور مقصد کے ساتھ نافذ کی جارہی ہیں اور دیرینہ ناکامیوں کو منظم انداز میں دور کیا جا رہا ہے جن میں بڑے سرکاری اداروں کی نجکاری بھی شامل ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے نجکاری کے عمل کے بارے میں کہا کہ کاروباری برادری کے تمام حلقوں میں اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ اولین ترجیحات میں شامل ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ دو دہائیوں سے زائد عرصے بعد پی آئی اے کی نجکاری کامیابی سے مکمل کرلی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی پیدا ہوئی ہے جس سے پاکستان کے نجکاری پروگرام پر اعتماد میں اضافہ ہوا اور معاشی اصلاحات کے عمل کو مزید تقویت ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مسلسل محنت کرنا ہوگی اور ہر آنے والی حکومت کو اسی تسلسل کے ساتھ کام جاری رکھنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ حالات بہتری کی جانب بڑھ رہے ہیں، ہمیں امید نہیں چھوڑنی چاہئے، ہمیں مزید محنت کرنی ہے اور پاکستان کے پاس آگے بڑھنے کے بھرپور مواقع موجود ہیں۔ گردشی قرضے کے خاتمے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حکومت ادائیگی کے نظام میں نظم و ضبط نافذ کر رہی ہے، ریگولیٹرز کو مضبوط بنا رہی ہے اور توانائی کے شعبے کو مالی طور پر پائیدار بنا رہی ہے تاکہ توانائی کا شعبہ معاشی ترقی میں رکاوٹ بننے کے بجائے اس کا سہارا بنے۔ آپ ایٹمی طاقت ہیں، اللہ نے آپ کو میزائل طاقت عطا کی ہے۔ اب صرف مکمل معاشی خود مختاری کی کمی ہے۔ پاکستان ہائیڈروکاربن، قیمتی پتھروں سے مالا مال ہے اور محتاط اندازے کے مطابق ان کی مالیت چھ سے آٹھ کھرب ڈالر تک ہو سکتی ہے۔ غیر ملکی قرضوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہمیں بیرونی کھاتے کے خسارے کو کم کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے صرف 10 ارب ڈالر ترسیلاتِ زر میں اضافہ، 10 ارب ڈالر برآمدات میں اضافہ اور تقریباً 10 ارب ڈالر خدمات و دیگر شعبوں سے حاصل کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے جیو اکنامکس کو اپنی خارجہ پالیسی کے ہر بڑے شعبے میں شامل کر دیا ہے۔ ایک ایسا ملک جو تین سال پہلے سفارتی طور پر تنہا سمجھا جاتا تھا، آج الحمدللہ خطے میں سب سے زیادہ اہم اور سب سے زیادہ مطلوب شراکت دار بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معدنیات اور توانائی میں تعاون کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے اور گوادر بندرگاہ اور قراقرم ہائی وے سمیت ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے ذریعے علاقائی روابط کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کی ہمہ موسمی سٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط ہو رہی ہے جو دونوں ممالک کے عوام کے لیے طویل المدتی معاشی فوائد کا باعث بنے گی۔ امریکہ کے ساتھ تعاون ٹیکنالوجی، توانائی، سرمایہ کاری اور مارکیٹ تک رسائی کے شعبوں میں پھیلا ہوا ہے جس کا مقصد پاکستان کی برآمدی مسابقت میں اضافہ اور تجارت و ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپ میں کاروباری برادری کے ساتھ روابط مضبوط کیے جا رہے ہیں جبکہ خلیجی ممالک، ترکیہ اور مشرقِ وسطیٰ میں توانائی، خوراک، سکیورٹی، لاجسٹکس، خدمات اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بڑی سرمایہ کاری اور سٹریٹجک شراکت داریاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاشی تعلقات پاکستان کی ایف ڈی آئی حکمتِ عملی کا مرکزی حصہ ہیں۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی ترقی گرین، ڈیجیٹل اور انسانی وسائل پر مبنی ہونی چاہئے، موسمیاتی لحاظ سے محفوظ زراعت، قابلِ تجدید توانائی، پائیدار شہری ترقی اور گرین صنعتی مراعات اس ایجنڈے کا مرکزی حصہ ہیں اور پاکستان کی معاشی ریزیلینس کےلئے ناگزیر ہیں۔ وفاقی وزیر خزانہ سےنےٹر محمد اورنگ زےب نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت 18 ماہ میں 3.

5 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کی، جبکہ اس عرصے میں 28 بین الاقوامی کمپنیوں نے پاکستان میں انویسٹمنٹ کی ہے۔ قرضوں کی ادائیگی میں خود بخود کمی نہیں آئی بلکہ اس کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ سود کی ادائیگی سب سے بڑا خرچہ ہے، سرکاری اداروں میں ایک ہزار ارب روپے سالانہ ضائع ہو رہے تھے۔ کرنٹ اکاو نٹ خسارہ ہدف کے اندر ہے، اگرچہ تجارتی خسارہ بڑھا ہے، تاہم خدمات کے شعبے میں تیز رفتار ترقی دیکھنے میں آئی، پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے وزےر خزانہ نے کہا کہ ترسیلات زر اب معیشت کا مستقل اور پائیدار حصہ بن چکی ہیں۔ گزشتہ مالی سال ترسیلات زر 38 ارب ڈالرز تھیں جب کہ رواں مالی سال کے دوران ترسیلات 41 ارب ڈالرز سے بڑھ جائیں گی۔ نئی برآمداتی سکیم کے تحت 2.8 ارب ڈالرز کی اضافی برآمدات متوقع ہیں، جو پاکستان کی مجموعی برآمدات کا تقریباً 10 فیصد بنتی ہیں۔ ریکوڈک منصوبہ پاکستان کے لیے سودمند ہے۔ ریکوڈک کی برآمدات 2028ءمیں شروع ہوں گی۔ پاکستان پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھ رہا ہے۔ او آئی سی سی آئی کے مطابق 73 فیصد سرمایہ کار پرامید ہیں۔ پاکستان میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ ملک کے مثبت پہلوو ں کو اجاگر کیا جائے۔ ایس آئی ایف سی کی معاونت سے ٹیلی نار کا 400 ملین ڈالر کا لین دین مکمل ہوا، جو حکومتی قرض نہیں بلکہ نجی شعبے کے لیے حقیقی مالی معاونت ہے۔ ٹیکس پالیسی کا اختیار ایف بی آر سے لے کر فنانس ڈویژن کو دے دیا گیا ہے۔ ایف بی آر اب صرف ٹیکس وصولیوں پر توجہ دے گا۔ وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کی نجکاری میں مقامی سرمایہ کاروں نے بھی شرکت کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 24 ادارے نجکاری کمشن کے حوالے کیے جا چکے ہیں۔ وفاقی وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ حکومت آئندہ 2 ہفتوں میں پانڈا بانڈز لانچ کرے گی۔ ایک سروے کے مطابق 73 فیصد سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کے حق میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تجارتی خسارہ بڑھا ہے تاہم کرنٹ اکاو نٹ ہدف کے اندر ہے۔ محمد اورنگزیب کے مطابق پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں ایک لاکھ 35 ہزار نئے سرمایہ کار شامل ہوئے ہیں۔ گزشتہ 18 ماہ کے دوران سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری میں 41 فیصد اضافہ ہوا ہے، وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کے پاس دنیا کی تیسری سب سے بڑی فری لانسر فورس موجود ہے۔ آئندہ ہفتوں میں پانڈا بانڈ کے بارے میں خبریں آئیں گی۔ اب چین کی مارکیٹ میں بھی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ کرنسی کی تبدیلی سے 2.5 فیصد فائدہ ہوگا۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ اصلاحات پر بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں نے اعتماد ظاہر کیا ہے۔ آئی ایف سی نے 3.5 ارب ڈالر کی بڑی سرمایہ کاری مکمل کی ہے۔ وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے کہا ہے کہ مخصوص طبقے کو سستی بجلی، گیس اور ٹیکس چھوٹ دینے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی تب آئے گی جب ہر شہری کو کام کےلئے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے کہا ہے کہ پائیدار معاشی ترقی کیلئے اصلاحات ناگزیر ہیں۔ انہوںنے کہاکہ صلاحیتوں کی کمی نہیں، عوام اور سرمائے کو متحرک کرنے کی ضرورت ہے۔ 

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: وفاقی وزیر خزانہ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری پاکستان کے پاکستان کی ارب ڈالرز میں اضافہ کے مطابق ارب ڈالر کے ساتھ کے لیے ہے اور رہی ہے رہا ہے

پڑھیں:

وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار

سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔

بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار