حالات بہتری کی جانب گامزن، نائب وزیر اعظم،18 ماہ میں 3.5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری،وزیر خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے پالیسیوں میں تسلسل پر زور دیتے ہوئے تمام متعلقہ فریقین سے کہا ہے کہ وہ معاشی استحکام کے حصول اور عالمی برادری میں پاکستان کا نمایاں مقام بنانے کےلئے مزید محنت کریں۔ نائب وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار بدھ کو یہاں ”پاکستان پالیسی ڈائیلاگ“سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے جب باگ ڈور سنبھالی تو اسے ایک شدید معاشی عدم توازن ورثے میں ملا جس پر واحد ترجیح پاکستان کے طویل المدتی مفادات کو بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مشکل فیصلے کئے گئے اور سیاسی آسانیوں کو ایک طرف رکھ کر ذمہ داری کو ترجیح دی گئی۔ اصلاحات اب واضح سمت اور مقصد کے ساتھ نافذ کی جارہی ہیں اور دیرینہ ناکامیوں کو منظم انداز میں دور کیا جا رہا ہے جن میں بڑے سرکاری اداروں کی نجکاری بھی شامل ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے نجکاری کے عمل کے بارے میں کہا کہ کاروباری برادری کے تمام حلقوں میں اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ اولین ترجیحات میں شامل ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ دو دہائیوں سے زائد عرصے بعد پی آئی اے کی نجکاری کامیابی سے مکمل کرلی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی پیدا ہوئی ہے جس سے پاکستان کے نجکاری پروگرام پر اعتماد میں اضافہ ہوا اور معاشی اصلاحات کے عمل کو مزید تقویت ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مسلسل محنت کرنا ہوگی اور ہر آنے والی حکومت کو اسی تسلسل کے ساتھ کام جاری رکھنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ حالات بہتری کی جانب بڑھ رہے ہیں، ہمیں امید نہیں چھوڑنی چاہئے، ہمیں مزید محنت کرنی ہے اور پاکستان کے پاس آگے بڑھنے کے بھرپور مواقع موجود ہیں۔ گردشی قرضے کے خاتمے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حکومت ادائیگی کے نظام میں نظم و ضبط نافذ کر رہی ہے، ریگولیٹرز کو مضبوط بنا رہی ہے اور توانائی کے شعبے کو مالی طور پر پائیدار بنا رہی ہے تاکہ توانائی کا شعبہ معاشی ترقی میں رکاوٹ بننے کے بجائے اس کا سہارا بنے۔ آپ ایٹمی طاقت ہیں، اللہ نے آپ کو میزائل طاقت عطا کی ہے۔ اب صرف مکمل معاشی خود مختاری کی کمی ہے۔ پاکستان ہائیڈروکاربن، قیمتی پتھروں سے مالا مال ہے اور محتاط اندازے کے مطابق ان کی مالیت چھ سے آٹھ کھرب ڈالر تک ہو سکتی ہے۔ غیر ملکی قرضوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہمیں بیرونی کھاتے کے خسارے کو کم کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے صرف 10 ارب ڈالر ترسیلاتِ زر میں اضافہ، 10 ارب ڈالر برآمدات میں اضافہ اور تقریباً 10 ارب ڈالر خدمات و دیگر شعبوں سے حاصل کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے جیو اکنامکس کو اپنی خارجہ پالیسی کے ہر بڑے شعبے میں شامل کر دیا ہے۔ ایک ایسا ملک جو تین سال پہلے سفارتی طور پر تنہا سمجھا جاتا تھا، آج الحمدللہ خطے میں سب سے زیادہ اہم اور سب سے زیادہ مطلوب شراکت دار بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معدنیات اور توانائی میں تعاون کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے اور گوادر بندرگاہ اور قراقرم ہائی وے سمیت ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے ذریعے علاقائی روابط کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کی ہمہ موسمی سٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط ہو رہی ہے جو دونوں ممالک کے عوام کے لیے طویل المدتی معاشی فوائد کا باعث بنے گی۔ امریکہ کے ساتھ تعاون ٹیکنالوجی، توانائی، سرمایہ کاری اور مارکیٹ تک رسائی کے شعبوں میں پھیلا ہوا ہے جس کا مقصد پاکستان کی برآمدی مسابقت میں اضافہ اور تجارت و ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپ میں کاروباری برادری کے ساتھ روابط مضبوط کیے جا رہے ہیں جبکہ خلیجی ممالک، ترکیہ اور مشرقِ وسطیٰ میں توانائی، خوراک، سکیورٹی، لاجسٹکس، خدمات اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بڑی سرمایہ کاری اور سٹریٹجک شراکت داریاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاشی تعلقات پاکستان کی ایف ڈی آئی حکمتِ عملی کا مرکزی حصہ ہیں۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی ترقی گرین، ڈیجیٹل اور انسانی وسائل پر مبنی ہونی چاہئے، موسمیاتی لحاظ سے محفوظ زراعت، قابلِ تجدید توانائی، پائیدار شہری ترقی اور گرین صنعتی مراعات اس ایجنڈے کا مرکزی حصہ ہیں اور پاکستان کی معاشی ریزیلینس کےلئے ناگزیر ہیں۔ وفاقی وزیر خزانہ سےنےٹر محمد اورنگ زےب نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت 18 ماہ میں 3.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: وفاقی وزیر خزانہ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری پاکستان کے پاکستان کی ارب ڈالرز میں اضافہ کے مطابق ارب ڈالر کے ساتھ کے لیے ہے اور رہی ہے رہا ہے
پڑھیں:
وزیراعظم کا آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند